انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 181

انوار العلوم جلد ۵ معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ جانا ایسا مؤثر نہ ہو گا کیونکہ ہندو قوم اب فوجی خدمات کی اہمیت سے کافی طور پر واقف ہو چکی ہے اور وہ اپنے قدیم ملک کو بلا حفاظت چھوڑنے پر کبھی رضامند نہ ہوگی۔غرض ہر ملازمت کے لئے دوسری اقوام کے لوگ نہ صرف مل جاویں گے بلکہ شوق سے آگے بڑھیں گے کیونکہ ملازمت تلاش کرنے والوں کی ہمارے ملک میں کمی نہیں ہے ایسے لوگ مسلمانوں کے اس فیصلہ کو ایک نعمت غیر مترقبہ مجھیں گے اور ان کی بیو تونی پر دل ہی دل میں ہنسیں گے۔پس سوائے اس کے کہ اس فیصلہ سے لاکھوں مسلمان اپنی روزی سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور تعلیم سے محروم ہو جاویں اور اپنے حقوق کو جو بوجہ مسلمانوں کے سرکاری ملازمتوں میں کم ہونے کے پہلے ہی تلف ہو رہے ہیں اور زیادہ خطرہ میں ڈال دیں اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔میں اس جگہ یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میری اس تحریر کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہندوؤں کے لیڈر جان بوجھ کر مسلمانوں کو اس کام پر آمادہ کر رہے ہیں تا وہ ان کے لئے میدان خالی چھوڑ دیں۔میں ان لیڈروں کو جو اس امر میں مسلمانوں کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں دیانت دار سمجھتا ہوں۔اور جو کچھ میں کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہندوؤں کا کثیر حصہ اس تجویز میں مسلمانوں کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہے اور علاوہ اس تجویز کے بذاتہ غلط ہونے کے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک تمام ملک اس بات پر کاربند ہونے کے لئے تیار نہ ہوگا کبھی بھی اس تجویز کا مفید نتیجہ نہیں نکلے گا۔اگر ہندو بھی ساتھ مل جاویں تب بھی ہندوستان کی ملکی ضروریات کے پورا کرنے کے لئے یورپین اور کر بیچن کافی ہیں۔اور فوجی ضروریات کو یوروپین فوج کے علاوہ سکھ اور گورکھے پورا کر سکتے ہیں۔اور یہ قومیں ہرگز اس تجویز میں مسلمانوں کا ساتھ نہ دیں گی۔پس اگر یہ تجویز فساد کا موجب نہ بھی ہو جو میرے نزدیک یقینا ہوگی۔اور اگر تمام کے تمام مسلمان اس پر کار بند ہونے کے لئے تیار بھی ہو جاویں جو یقینا نہ ہوں گے تو بھی اس تجویز پر عمل کر کے حکومت برطانیہ پر دباؤ ڈالنے کی امید رکھنا ایک امر موہوم ہی نہیں بلکہ یقینی طور پر غلط ہے اور اس کے مقابلہ میں یہ بات یقینی ہے کہ اس تجویز پر عمل کر کے مسلمانوں کی رہی سہی طاقت بھی بالکل ٹوٹ جاوے گی اور اس ایک ملک میں بھی جس میں مسلمانوں کی ظاہری حالت کسی قدر اچھی نظر آتی ہے وہ کمزور اور ناطاقت ہو جاویں گے اور اس سب تباہی کا الزام ان کے اپنے سر ہو گا۔عرض میرے نزدیک اس وقت تک جس قدر تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ یا تو شریعت کے خلاف ہیں یا نا قابل عمل۔اور میرے نزدیک مسلمانوں کا فائدہ اسی میں ہے اور اس زمانہ کے حالات کو مد نظر رکھ کر مسلمانوں کے لئے صرف یہی راہ کھلی ہے کہ وہ متفق اللسان ہو کر یہ بات اتحادی حکومتوں کے