انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 182

انوار العلوم جلد ۵ معاهده ترکیدا و مسلمانوں کا آننده روید گوش گزار کر دیں کہ انہوں نے ترکوں سے شرائط صلح خود اپنے تجویز کردہ قواعد کے خلاف بنائی ہیں اور یہ کہ مسلمان ان کے اندر سیمیت کے تعصب کا ہاتھ پوشیدہ دیکھتے ہیں اور کٹیلٹس کے فوائد کی نگہداشت ان میں مد نظر رکھی گئی ہے۔اور وہ ان سے ان کے اس فیصلہ کو تبدیل کرنے کے لئے اپیل کرتے ہیں۔اور اگر وہ اس فیصلہ کو تبدیل نہ کریں تو اس فیصلہ کی اپیل وہ ان کی آئندہ نسلوں کی کانشنسوں سے کرتے ہوئے اور اپنے مذہب کے احکام کے ماتحت ہر قسم کے فساد اور شورش سے اجتناب کرتے ہوئے اس امر کے فیصلہ کو خدا پر چھوڑ دیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ ان تجاویز پر عمل کر کے جو اس وقت تک پیش کی جاچکی ہیں اور نہ اس تجویز پر عمل کر کے جو اس وقت میں نے پیش کی ہے ان شرائط میں تبدیلی کرائی جا سکتی ہے جو اتحادیوں نے مقررہ کی ہیں۔لیکن اگر مسلمان اس تجویز پرعمل کریں گے جو میں نے بنائی ہے۔تو یقینا چند سال کے بعد خود وہی لوگ جو اس وقت اس فیصلہ پر خوش ہیں ورنہ ان کی اولادیں ضرور ان شرائط کو پڑھ کر شرم سے اپنی گردنیں نیچے جھکا لیں گی۔اور جس طرح اور بہت سے تاریخی معاملات میں خود اولا دوں نے اپنے آباء کے فیصلوں کو حقارت اور نفرت سے دیکھا ہے اس فیصلہ کو اتحادیوں کی آئندہ نسلیں افسوس اور حیرت کی نگاہ سے دیکھیں گی۔لیکن اگر اس کے برخلاف شورش و فساد سے کام لیا گیا تو دلائل کا پہلو ان شرائط کو طے کرنے والوں کے حق میں بھاری ہو جاوے گا۔اور خود مسلمانوں کی آئندہ نسلیں مسلمانوں کے اس طریق عمل کے بیان سے شرمائیں گی اور شورش پھیلانے والا رویہ بجائے مفید ہونے کے ان شرائط کی کمزوری پر پردہ ڈال کر دنیا کی نظروں کو اور طرف پھیر دے گا۔مگر میرا مشورہ اس حد تک محدود نہیں۔جو لوگ کسی فصیل شدہ امر کو جو ان کے فوائد کے لئے مضر ہو اسی جگہ چھوڑ دیتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔مسلمان تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ سے بھی اس کے فیصلہ کو تبدیل کروا لیتا ہے اور گریہ وزاری اور دعاؤں سے اس کے رحم کو جذب کر لیتا ہے۔پس میں صرف اسی کا رروائی کا مشورہ نہ دوں گا بلکہ اس کے علاوہ میرے نزدیک مسلمانوں کو آئندہ کے لئے ایک عملی پروگرام بھی بنانا چاہئے۔سب سے پہلے نہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس معاہدہ کی پابندی کا اثر اسلام پر کیا پڑے گا۔اس سوال کا جواب دیتے وقت ایک چیز نمایاں طور پر ہمارے سامنے آجاتی ہے اور وہ ان علاقوں کی نگہداشت ہے جن میں مسلمان بستے ہیں اور جنہیں یونان اور آرمینیا کے سپرد کر دیا گیا ہے۔یونانیوں اور آرمینیوں کا تعقرب اسلام سے اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس کے ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں جو