انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 155

انوار العلوم جلد ۵ ۱۵۵ فرائض مستورات زندہ ہونے کا علم ہو گیا لیکن مدینہ میں پلے خبر پہنچ چکی تھی اس لئے مدینہ کے بچے اور عورتیں دیوانہ وار باہر نکلے۔اس وقت جب کہ شکر واپس آرہا تھا ایک صحابی آگے آگے تھا اس سے ایک عورت نے بے تحاشا آکر پوچھا رسول اللہ صلی الہ علیہ ولم کا کیا حال ہے ؟ اس کے دل میں چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اطمینان اور تسلی تھی اس لئے اس نے اس بات کو معمولی سمجھ کر کہا تمہارا باپ مارا گیا ہے۔عورت نے کہا میں نے تم سے پوچھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا تمہارا بھائی بھی مارا گیا ہے۔عورت نے کہا ئیں یہ پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا تیرا خاوند بھی مارا گیا ہے۔عورت نے کہا میری بات کا تم جواب کیوں نہیں دیتے۔میں پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا رسول اللہ زندہ ہیں یہ سُن کر عورت نے کہا شکر ہے خدا کا۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو ہمیں اور کسی کی پرواہ نہیں۔علی ایسا ندار ہو تو رسول کریم کو مقدم رکھو اس بات کو مانے رکھ کر تم اپنی مات کو دیکھو اگر پیدا ہوتے ہی بچہ مرجائے تو اس پر بین شروع کر دیئے جاتے ہیں حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ جہاں بچہ کیا ہے وہیں ان کو بھی جاتا ہے۔اگر کچھ فرق ہے تو یہ کہ وہ پہلے چلا گیا ہے اور یہ کچھ عرصہ بعد جائیں گی۔تاہم عجیب عجیب بین کرتی ، روتی ، چلاتی اور رشور مچاتی ہیں۔یہ تو آج کل کی مسلمان کہلانے والی عورتوں کی حالت ہے۔اور ایک وہ مسلمان عورت تھی جس کا باپ ، بھائی اور خاوند مارا جاتا ہے مگر وہ کہتی ہے رسول اللہ صل للہ علیہ سلم زندہ ہی تو مجھ کچھ کم نہیں۔یہ وہ ایمان ہے جو مسلمان کی علامت ہے۔پس اگر تم ایماندار ہو اور تمہیں مسلمان ہونے کا دعوی ہے تو خدا تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ مں کسی بات کی پرواہ نہ کرو اور اس کے حکموں پرعمل کر کے دکھاؤ۔اس بات کی ہرگز پرواہ نہ کرو کہ لوگ تمہیں کیا کہیں گے بلکہ اس بات کی پرواہ کرو کہ خدا تمہیں کیا کہتا ہے۔عورتوں میں بہت سی باتیں ایسی پائی جاتی ہیں جو شرک ہیں۔قبروں پر چڑھا ہے قبر پرستی سے بچو چڑھائے جاتے ، چراغ جلائے جاتے منتیں مانی جاتی ہیں۔یہ سب شرک ہے خدا تعالی کے مقابلہ میں کس کو کھڑا کرنا شرک ہے جو بہت ہی بڑا گناہ ہے اور اس سے خدا تعالی کا غضب بھڑک اُٹھتا ہے۔دیکھیو اگر کوئی اپنے باپ کے سامنے ایک چوہڑے کو اپنا باپ کسے تو اس کے باپ کو کس قدر غصہ آئے گا اور وہ کس قدر ناراض ہوگا۔اسی طرح ایک ادنی مخلوق کو جوخدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کیڑے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی اپنا حاجت روا سمجھنا خدا تعالیٰ کی بہت بڑی ناراضگی کا موجب ہے ایک قبر میں دفن شدہ مردہ جس کی ہڈیاں بھی گل گئی ہوں اور جس کے جسم کو کیڑے کھا گئے ہوں اس کو سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۹۲