انوارالعلوم (جلد 5) — Page xiv
انوار العلوم جلد ۵ 11 معاہدہ ترکیہ اورمسلمانوں کا آئندہ رویہ تعارف کت جنگ عظیم اول کے بعد فاتح اتحادی ممالک نے دولت عثمانیہ (ترکی) سے صلح کی جو شرائط طے کیں وہ انتہائی ذلت آمیز تھیں۔ان کی رُو سے سلطنت ترکی کے حصے بخرے کردیئے گئے۔اس کی بحری وبری اور ہوائی افواج نہایت محدود کر دی گئیں۔اور اس پر بعض اور کڑی پابندیاں بھی لگا دی گئیں۔ان حالات میں ترکی کی سلطنت کے ساتھ صلح کی شرائط کے مسئلہ پر غور کرنے اور مسلمانوں کے لئے آئندہ طریق عمل سوچنے اور تجویز کرنے کے لئے کیم و دو جون ۱۹۲۰ کو اللہ آباد میں خلافت کمیٹی کے تحت ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جانا مقرر ہوا۔جمعیتہ العلماء ہند کے مشہور لیڈر جناب مولانا عبد الباری فرنگی محلی نے ۳۰ رمئی ۹۳ منہ کو حضرت مصلح موعود کی خدمت میں ایک خط کے ذریعہ اس کا نفرنس میں اپنے خیالات کے اظہار کے لئے دعوت دی چنانچہ حضور نے معاہدہ ترکیہ اورمسلمانوں کا آئندہ رویہ" کے عنوان سے ایک دن میں پیمضمون تحریر فرمایا اور اسے راتوں رات چھپوا کر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب - حضرت سید ولی الله شاہ صاحب اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے ذریعہ بھجوا دیا۔تاریخ احمدیت جلد نمبر ۵ صفحه ۲۶۳ - ۲۶۴ ) حضور نے اپنے اس مضمون میں معاہدہ ترکیہ کی شرائط کے نقائص کی نشاندہی فرماکر اس کے بداثرات سے بچنے کے لئے مسلمانوں کے سامنے بعض تجاویز پیش فرمائی ہیں۔حضور نے نہایت مدلل انداز میں اپنے موقف کو پیش کرتے ہوئے یہ واضح فرمایا کہ جو تجاویز ،ہجرت ، جہاد عام اور گورنمنٹ سے قطع تعلقی کرنے کی پیش کی جارہی ہیں۔یہ نا قابل عمل اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والی ہیں۔حضور نے اپنی طرف سے یہ تجویز فرمایا کہ مسلمان متفق اللسان ہو کر اتحادی حکومتوں پر یہ بات واضح کر دیں کہ چونکہ انہوں نے ترکوں سے صلح کی شرائط اپنے تجویز کردہ قواعد کے خلاف رکھی ہیں اور اس معاہدہ میں مسیحی تعصب دکھائی دیتا ہے نیز ان شرائط میں سرمایہ داروں CAPITALISTS کے مفادات کو مد نظر رکھا گیا ہے لہذا مسلمان اس فیصلہ کو نا پسند کرتے اور اسے تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔اس مضمون میں حضور نے مذکورہ تجویز کے علاوہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی و ہبود کیلئے بلاتاخیر ایک عالمگیر لجنہ اسلامیہ یعنی موتمر عالم اسلامی ، قائم کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔