انوارالعلوم (جلد 5) — Page 108
تفرزیرسیالکوٹ کو پھیلانے کے لئے دنیا میں نکلی رہتی تھیں۔تمام دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے اور خاص کر گذشتہ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ کوئی قوم صرف دشمن کے مقابلہ میں اپنا بچاؤ کرتے کرتے اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتی جب تک خود بھی حملہ نہ کرے۔چنانچہ اس جنگ میں لڑائی کے اس اصل پر خاص طور عمل کیا گیا۔کیونکہ اس طرح دشمن کو اپنے گھر کا بھی فکر پڑ جاتا ہے تو دشمن پر کامیابی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ نہ صرف اس کے حملہ کو روکا جائے بلکہ خود اس پر حملہ کیا جائے۔اور مذہبی رنگ میں کیسی حملہ ہوتا ہے کہ اس مذہب کے نقائص بتائے جائیں۔اسلام میں گیارہویں بارہویں صدی تک ایسے لوگ ہوتے رہتے ہیں جنہوں نے اشاعت اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی تھیں۔چنانچہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت سے اسلام نہیں پھیلا۔بلکہ خواجہ معین الدین اجمیری جیسے بزرگوں کے ذریعہ پھیلا تو ان حالات کے ماتحت اسلام مخالفین کے حملوں سے بچا ہوا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت میں شبہ نہیں پیدا ہو سکتا تھا۔موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی حالت لیکن اس کے بعد وہ زمانہ آیا کہ ایک طرف تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعد اور دوری کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت میں ایسا تغیر آ گیا کہ ایک وقت وہ تھا کہ ایک شخص کا مسلمان کہلانا ہی ضمانت تھی اس بات کی کہ وہ سچ کہے گا۔مگر ایک یہ وقت آگیا کہ مسلمان کہلانے والوں کو سب سے زیادہ چھوٹا سمجھا جانے لگا۔پھر ایک تو وہ وقت تھا کہ یوروپین مصنف با وجود اسلام کے ساتھ سخت تعصب رکھنے اور گالیاں دینے کے لکھتے تھے کہ مسلمان عہد کے بڑے پتے ہوتے ہیں جو اقرار کر لیتے ہیں اسے ضرور پورا کرتے ہیں۔چنانچہ پین کے واقعات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ بار بار عہد کئے گئے جنکو ریاستوں نے خود ہی توڑ دیا مگرمسلمانوں نے کبھی کسی عہد کو نہ توڑا۔اسی طرح صلیبی جنگیں ہوئیں ان کے متعلق یوروپین مصنف اقرار کرتے ہیں اور وہ مصنف اقرار کرتے ہیں جو خود لڑنے کے لئے گئے تھے کہ جب بھی مسلمانوں نے معاہدہ کیا اسے لفظاً لفظاً پورا کیا۔اس کے مقابلہ میں جرمنی اور فرانس نے عہد ناموں کو توڑا۔تو اس وقت اسلام کا نام ضمانت تھی اس بات کی کہ صداقت اس کے ساتھ ساتھ جاتی ہے۔مگر پھر وہ زمانہ آگیا کہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں کو چھوٹا اور فریبی سمجھا جانے لگا اور خود مسلمانوں نے اپنا مسلمان ہونا جھوٹے ہونے کے مترادف سمجھ لیا۔ایک دفعہ مجھے کشمیر جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں میں نے خالیجے بنوائے۔بنانے والا مسلمان تھا۔اس کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا اس سے دس پندرہ فٹ کم اس نے غالیچے تیار کئے اور قیمت پہلے لے لی تھی۔میں نے اس سے پوچھا یہ تم نے کیا کیا ؟ اس کے جواب میں بار بار وہ یہی کہنے میں مسلمان ہوں“ اس پر مجھے غصہ آئے کہ یہ ایسا جواب