انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 70

انوار العلوم جلد ۵ صداقت اسلام مرزا صاحب کے غلاموں نے کھڑے ہو کر انہیں شکست فاش دی اور ان کے گھر پہنچ کر لا اللہ إِلَّا اللہ کے نعرے بلند کئے۔اب ولایت میں دیکھ لو۔وہی لوگ جو نہیں تثلیث پرستی میں جگڑ نا چاہتے تھے انہی میں سے بعض کے گھروں میں لا إِلهَ إِلَّا اللہ کی آواز گونج رہی ہے اور ان کے علاوہ اب یہ آواز امریکہ کی طرف بھی منتقل ہو چکی ہے۔چنانچہ ہم اپنا ایک مبلغ امریکہ بھیج چکے ہیں تاکہ وہ جا کر امریکہ والوں کی توجہ اسلام کی طرف پھیرے جو اس کے لئے تیار پائے جاتے ہیں۔پھر وہی جرمنی جو مادیات کی طرف سب سے زیادہ جھکا ہوا تھا اب ادھر سے بیزار ہو کر روحانیت کی طرف متوجہ ہو رہا ہے۔اس کا ایک فصل چند روز ہوئے مسلمان ہوا ہے اور اس نے لکھا ہے کہ جرمنی میں اسلام کی بہت ترقی ہو گی پھر روس کے کئی ایک آدمی مسلمان ہوچکے ہیں اور ان لوگوں نے مجھے لکھا ہے کہ جب ہمارے ملک میں امن و امان ہو جائے گا تو ہم اپنی زندگیاں اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کر دیں گے اور جہاں آپ بھیجیں گے وہاں جانے کے لئے تیار رہیں گے اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد اور کئی مقامات پر رکھی جاچکی ہے اور بیج کی طرح اسلام کئی جگہوں میں پہنچ چکا ہے۔یہ سوائے اس کے اور کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو بات بتائی تھی وہ پوری ہو رہی ہے۔باوجود اس کے کہ مسلمانوں کی حکومت سینکڑوں سال سے چلی آتی ہے لیکن کیا شمسی مسلمان حکومت کے ذریعہ یہ بات حاصل ہوئی ؟ ہرگز نہیں۔مگر ایک شخص بے سروسامانی کی حالت میں خبر دیتا ہے کہ ایسا ہوگا اور چند ہی سال میں اس طرح ہونا شروع ہو جاتا ہے۔حضرت مرزا صاحب کی مخالفت پھر کوئی کہ سکتاہے کہ کیا ہوا اگر کچھ لوگ مسلمان ہو گئے۔یہ کون سی بڑی بات ہے ، لیکن حضرت مرزا صاحب نے یہی نہیں کہا تھا کہ اسلام دُنیا میں پھیل جائے گا بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ دنیا اس کی مخالفت کرے گی اور باوجود اس کے اسلام پھیلے گا۔چنانچہ دنیا نے مخالفت کی اور وہ لوگ بھی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور بڑائی پر ایمان لانے کا دعوی رکھتے تھے۔انہوں نے بھی رکاوٹیں ڈالیں۔دوسروں نے تو ڈالنی ہی تھیں بعض گھر کے لوگوں نے بھی سختی سے مقابلہ کیا۔طرح طرح کے ظلم کئے پتھر مارے گالیاں دیں اور ہر قسم کی سختیاں کیں مگر پھر بھی وہ یہی کہتا رہا۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار کو کافر کند دعوای حب پیمبرم کہ یہ لوگ خواہ مجھ سے کیسا ہی بُرا سلوک کریں اور باوجود اس کے کہ میں اس تعلیم کو پھیلانے کے لئے کھڑا ہوا ہوں جس سے وہ خود محبت کرنے کا دعوای رکھتے ہیں پھر بھی میں ان کی خاطر کو نگاہ میں رکھتا ہوں۔