انوارالعلوم (جلد 5) — Page 59
انوار العلوم جلد ۵ ۵۹ صداقت اسلام میں ڈالے رکھنے سے۔اسی طرح مذہب کا فائدہ بھی اسی کو ہو سکتا ہے جو اس پر عمل کرے نہ کہ صرف منہ سے اس کے ماننے کا دعوی کرے۔اب اس بات کو مدنظر رکھ خدا تعالیٰ سے تعلق کن ذرائع سے پیدا ہو سکتا ھے ؟ کہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالی سے تعلق کن ذرائع سے پیدا ہو سکتا ہے۔دنیا میں کسی سے تعلق پیدا ہونے کے دو طریق میں تعلق یا تو محبت سے پیدا ہوتا ہے یا خوف سے۔اب ہم اسلام کی تعلیم پر غور کر کے دیکھیں گے کہ آیا اسلام نے ایسی تعلیم دی ہے کہ جس سے خدا تعالیٰ سے کمال درجہ کی محبت اور خوف پیدا ہوتا ہے یا نہیں اگر دی ہے تو ثابت ہو گیا کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو خدا تعالیٰ سے ملانے کا صیحیح رستہ بتاتا ہے گو دوسرے مذاہب میں بھی خوبیاں ہیں اور اگر یہ ثابت نہ ہو تو پھر ماننا پڑے گا کہ اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی تلاش کرنی چاہئے۔قرآن شریف میں ان ذرائع سے کس طرح کام لیا گیا ہے ؟ اس کے لئے ہیں قرآن کریم کی تفصیلات کو چھوڑ کر سورۃ فاتحہ کو لیتا ہوں۔جو پہلی سورۃ ہے اور جس میں صرف سات آیتیں ہیں دُنیا کے تمام فلسفے اس بات پر متفق ہیں کہ تعلق قائم رکھنے کے لئے پہلے محبت سے کام لینا چاہتے اور پھر خوف سے۔مثلاً بچہ کو صبح پڑھنے بھیجنے کے لئے پہلے محبت سے کہا جائے گا بیٹا پڑھنے جاؤ یہ نہیں کہ اُٹھتے ہی اس کے منہ پر تھپڑ مار دیں۔اور اگر نہ مانے تو کہیں گے لو یہ مٹھائی لو اور جاؤیا آکرلے لینا۔اس پر بھی اگر وہ نہ مانے تو پھر ماریں گے۔گویا پہلے محبت سے بھیجا جائے گا اور پھر خوف سے۔اب ہم یہ دیکھیں گے کہ قرآن نے اسی طبعی طریقہ کو خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کے لئے برتا ہے یا نہیں۔تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سورۃ کو شروع ہی الحمد سے کیا گیا ہے جس میں محبت کا ذکر ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصل جو ایک مدت کی تحقیقات کے بعد ثابت کیا گیا ہے اسے قرآن نے بہت عرصہ قبل بیان کر دیا ہے۔پھر تعلق دو وجہ سے ہوا کرتا ہے۔یا تو اس طرح کہ کوئی چیز اپنی ذات میں پیاری لگتی ہے یا اس سے فائدے پہنچتے ہیں۔جیسا کہ انگریزی دانوں میں محاورہ ہے کہ نیکی کو نیکی کی خاطر قبول کرنا چاہئے۔ان دونوں اصول کے متعلق دیکھتے ہیں کہ قرآن کیا کہتا ہے۔