انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 533

انوار العلوم جلد ۵ ۵۳۳ ملا نكلمة الله انسان کو ہی دیکھ لو اس میں قلب ، روح یا MIND کچھ کہ لوکوئی چیز ہے جس کی وجہ انسان سب کام کرتا ہے اور جب وہ نہیں رہتی تو انسان بے جان ہو جاتا ہے لیکن وہ چیز جو اس کے اندر ہے وہ اسے نہیں کہتی کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو۔بلکہ وہ نہایت باریک اعصاب پر اثر کرتی ہے اور وہ آگے بار یک شاخوں پر اثر کرتے ہیں اور اس طرح ہوتے ہوتے کسی عضو میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ کام کرتا ہے مثلاً آنکھ کو براہ راست روح یا مائنڈ کوئی حکم نہیں دیتی۔بلکہ نہایت باریک اعصاب پر اثر کر کے تدریجی طور پر اس پر اپنے منشاء کا اظہار کرتی ہے۔غرض جتنی لطیف اشیاء ہیں وہ کثیف کے ساتھ وسائط کے ذریعہ تعلق پیدا کرتی ہیں پس ہم کہتے ہیں کہ خدا کا وجود ثابت ہے اور اس کا ہر چیز کا خالق ہونا مسلم ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کا تعلق اشیاء سے کسی ذریعہ سے ہے اور اسی ذریعہ کو ہم ملائکہ کہتے ہیں۔لیکن جو یہ نہیں مانتا کہ خدا ہے یا وہ سب اشیاء کا خالق ہے تو اس کے سامنے ہم ملائکہ کی بحث نہیں پیش کریں گے۔بلکہ اس سے پہلے یہ منوائیں گے کہ خدا ہے اور وہ دنیا کا خالق ہے۔اور جو اس کو مان نے گا اسے قانون قدرت پر نگاہ کر کے لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ کوئی لطیف مگر مخلوق ہستیاں ایسی ہیں جو اللہ اور موجودات ظاہری کے درمیان بطور واسطہ ہیں اور یہ ایسی بات ہے جو سائنس کی رو سے ثابت ہے۔سائنس کا مسئلہ ہے کہ ہر ایک چیز کے اسباب ہیں۔لطیف سبب اپنے سے موٹے سبب پر اثر ڈالتا ہے اور وہ اپنے سے موٹے پر اور یہ سلسلہ اسی طرح آگے چلتا ہے۔پس ہم مانتے ہیں کہ کونین میں جو خاصیت آئی ہے وہ اور اسباب کے ذریعہ آئی ہے۔اور کو نہین بھی کئی اجزاء سے مرکب ہے اور کوئی بھی چیز مفرد نہیں سب مرکب ہیں۔کو نہین کے اندر ایک خاص جزو ہے جس کا اثر بخار یہ ہوتا ہے اور اس جزو کا اثر بعض اور مخفی اسباب کی وجہ سے ہے اور وہ مخفی اسباب کی طرف منتقل ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخری ذریعہ ملائکہ ہیں۔اور وہ خدا تعالیٰ سے براہ راست فیضان حاصل کرتے ہیں کیونکہ اصل خالق وہی ہے۔اگر یہ نہ مانا جائے بلکہ یہ کہا جائے کہ ہر چیز کی ذاتی خاصیت ہوتی ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا چیزوں کا خالق نہیں ہے اور اگر خدا کو چیزوں کا خالق مانا جائیگا تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہر چیز میں خاصیت خدا کی طرف سے ہے اور خواص اشیاء کو مختلف اسباب مخفیہ کا نتیجہ دیکھ کر بھی ماننا پڑے گا کہ انہی اسباب مخفیہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا حکم ان تک پہنچتا ہے اور انہی کی آخری کڑی کا نام ملک ہے۔