انوارالعلوم (جلد 5) — Page 532
انوار العلوم جلد ۵ ۵۳۲ ملائكة الله اور امکان کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اور بھی صورتیں ہوسکتی ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ سارے امکان ایک بات میں پائے بھی جاتے ہیں ہیں ہو سکتا تھا کہ اشیاء کے خواص اشیاء سے ہی متعلق ہوں اور یہ امکان ہے مگر دوسرے شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ خواص کا تعلق ملانکہ سے ہے۔پھر ہم یہ نہیں کہتے کہ اشیاء میں خواص نہیں۔ہمارا یہ دعوی نہیں۔بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ اشیاء کے خواص کے ظہور کے ابتدائی محرک ملائکہ ہیں۔ملائکہ کو حکم ہوتا ہے اور وہ اپنے سے اگلے سبب پر اثر کرتے ہیں۔وہ اپنے سے اگلے پر اور اسی طرح ہوتے ہوتے ظاہری موجودات پر اس کا اثر ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔وہ لوگ جو خدا کو مانتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ خدا نے مادہ پیدا کیا ہے ان کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جتنی چیزیں ہیں ان کی خاصیتیں خدا نے ہی رکھی ہیں۔ورنہ یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ مادہ غیر مخلوق ہے خدا نے پیدا نہیں کیا۔بلکہ اپنے آپ ہی ہے اور خدا کوئی ہستی نہیں ہے۔اگر کوئی یہ خیال رکھتا ہے تو اس کو ملائکہ کے متعلق کچھ بتانے سے قبل خدا کی ہستی کا قائل کرانا ہوگا۔پھر اگر خدا کی ہستی کا کوئی قائل ہو جائے لیکن یہ کہے کہ ہر چیز اپنے آپ ہی پیدا ہو گئی ہے۔تو پھر لائکہ کے متعلق اسے کچھ کہا جائے گا۔ہاں جب یہ بھی تسلیم کرلے کہ ہر ایک چیز کو پیدا کرنے والا خدا ہے تو پھر اس کے سامنے یہ سوال رکھا جائے گا کہ ملائکہ کا وجود بھی ثابت ہے۔پس یہ سوال تب اُٹھایا جا سکتا ہے جب کوئی یہ تسلیم کرلے کہ خدا ہے اور اس نے مادہ پیدا کیا ہے ورنہ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ تو میں جو خدا کی ہستی کی قائل نہیں یا خدا کی تو قائل ہیں لیکن مادہ کو مخلوق نہیں مانتیں وہ فرشتوں کی قائل نہیں ہوتیں۔پیس پہلے یہ امور فیصلہ کئے جائیں گے اور ان کے بعد ملائکہ پر بحث ہو سکے گی۔اور جب ملائکہ پر بحث ہو گی تو اس کے ساتھ ہی یہ بات تسلیم شدہ قرار دی جائے گی کہ خدا کی ہستی اور مادہ کا مخلوق ہو تا تسلیم کیا جاتا ہے اور جب کوئی یہ باتیں تسلیم کرے گا تو اسے یہ بھی مانا پڑ گیا کہ خدا نے چیزوں میں صفات رکھی ہیں اس کے متعلق ہمارا دعویٰ صرف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اشیاء میں صفات براہ راست نہیں رکھیں بلکہ ملائکہ کے توسط سے رکھی ہیں۔کیونکہ چیزیں کثیف ہیں خدا تعالیٰ لطیف۔اور ہم قوانین نیچر کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کثیف اشیاء پر اثر ڈالنے کے لئے وسائط مقرر فرماتے ہیں۔سب لطیف چیزوں کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ کثیف کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے وسائط ہوتے ہیں۔خود کثیف چیز لطیف سے تعلق نہیں رکھ سکتی