انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 508

انوار العلوم جلد ۵ ۵۰۸ حضرت مسیح موعود بار با فرمایا کرتے تھے کہ کئی ہزار الفاظ کا مادہ آپ کو سکھایا گیا۔میں نے بھی اور بہت سی باتیں ملائکہ کے ذریعہ سیکھی ہیں۔ایک دفعہ گناہ کے مسئلہ کے متعلق اس وسعت کے ساتھ مجھے علم یا گیا کہ میں اس کا خیال کر کےحیران ہو جاتا ہوں کہکس عجیب طریق سے کوتاہیوں اور غلط کاریوں کانقشہ کھینچا گیا ہے۔سترھواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کے دل میں نیک تحریک اور نیک خیال پیدا کرتے ہیں۔یہ اس فرشتہ کا کام ہوتا ہے جو ہر ایک انسان کے لئے الگ الگ مقرر ہوتا ہے۔اصل میں یہ انتظام جبرائیلی تسلط کے ماتحت ہی ہوتا ہے کہ فرشتہ انسان کے دل میں نیک تحریکیں کرنا رہتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- فِي الْقَلْبِ لَمَّتَانِ لَمَّةٌ مِنَ الْمَلَكِ الْعَادُ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ فَمَنْ وجدَ ذلِكَ فَلْيَعْلَمُ أَنَّهُ مِنَ اللهِ سُبْحَانَهُ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ وَلَمَّةٌ مِنَ الْعَدُو إِيمَادُ بِالشَّرِ وَ تَكْذِيبُ بِالْحَقِّ وَنَهى عَنِ الْخَيْرِ فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرحيم فرماتے ہیں۔انسان کے دل میں دو تحریکیں ہوتی ہیں۔ایک فرشتے کی طرف سے اس میں نیک باتوں کی تحریک ہوتی اور سچائی کی تصدیق ہوتی ہے پس جس کے دل میں ایسی تحریک ہو جائے وہ جان سے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پس وہ اللہ کا شکر کرے۔اور ایک عدد کی طرف سے اس میں بُری باتوں کی تحریک ہوتی ہے اور سچائیوں کا انکار ہوتا ہے اور نیک باتوں سے روکا جاتا ہے یہیں جس کے دل میں ایسی تحریک ہو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے شیطان سے۔یہ میں نے ملائکہ کی حقیقت اور ان کے کام بتائے ہیں ان سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ لائنکہ یونی نہیں بلکہ ان کا انسان کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے۔اس لحاظ سے یہ معمولی مسئلہ نہ رہ گیا جیسا کہ عام لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ معلوم ہوا کہ خانہ کا وجود بھی ایک نایت کار آمد چیز ہے۔کیا انسان ملائکہ کو نفع پہنچا سکتا ہے ؟ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آیا لا نکہ کوانسان بھی کوئی فائدہ پہنچاتا ہے یا نہیں ؟ اس کے متعلق جہاں تک میری تحقیق ہے یہی معلوم ہوتا ہے اور میرا قرآن اور حدیث سے استنباط ہے کہ اور تو کسی رنگ میں