انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 412

انوارات ۴۱۲ اصلاح نفس کو داخل ہونے کی اجازت مل جاتی۔تو وہ کہتے کہ ہماری وجہ سے ہی ایسا ہوا ہے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو ہمارے مقابلہ میں کھڑا کر کے ہیں ان کے احسان کا بار اُٹھانے سے باز رکھا۔انہی دنوں میں سیالکوٹ گیا جہاں میرا لیکچر ہوا۔اس میں میں نے کہا کہ امریکہ نے ہمارا مقابلہ کیا ہے اور یہ خدا کی حکومت ہے اس مقابلہ میں امریکہ کو ضرور نیچا دیکھنا پڑے گا۔چنانچہ مفتی صاحب امریکہ داخل ہو گئے۔اور لطیفہ یہ ہے کہ اب انہیں بعض ایسی قانونی گنجائشیں مل گئی ہیں کہ انہوں نے لکھا ہے اگر اجازت ہو تو میں دوسرا نکاح کرلوں۔اس ملک کے متعلق میں نے گزشتہ سے پیوستہ جلسہ پر بیان کیا تھا کہ میں نے رویا میں دیکھا که حضرت مسیح موعود کہیں سے دوڑے دوڑے آئے ہیں۔میں نے کہا حضور اندر آئیں۔فرمایا خدا نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں امریکہ جاؤں۔میں پانچ سال امریکہ رہ کر آیا ہوں۔میں نے کہا حضور ! اب کچھ عرصہ گھر پر ٹھہریں۔فرمایا نہیں میں نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ مجھے اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوا ہے کہ پانچ سال بخارے جا کر رہوں۔چنانچہ آپ چلے گئے۔امریکہ کے بعد ہمارا قدم کدھر اُٹھے گا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کے دوسرا قدم ہمارا بخارا کی طرف اُٹھنا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس رویا کے بعد حضرت مسیح موعود کا ایک الہام ملا ہے جو بخارا کے متعلق ہے۔دو رڈیا ہیں۔ایک میں یہ ہے کہ زار روس کا سوٹا حضرت مسیح موعود کے ہاتھ آگیا ہے۔بخارا زار روس کا علاقہ تھا۔اس رڈیا کا ایک حصہ تو پورا ہو گیا۔کہ زار سے اس کا یہ سوٹا چھین لیا گیا۔اب دوسراحصہ باقی ہے کہ وہ نہیں لے سوٹا کی تعبیر بادشاہت ہے۔وہ تو ہزار سے چھن چکی ہے۔جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ زار قتل کر دیا گیا۔اب حضرت صاحب کو ملنا باقی ہے۔دوسری رؤیا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے دیکھا۔" خوارزم بادشاہ جو بوعلی سینا کے وقت میں تھا۔اس کی تیر کمان میرے ہاتھ میں ہے۔بوعلی سینا بھی پاس ہی کھڑا ہے۔اور اس تیر کمان سے میں نے ایک شہر کو بھی شکار کیا ہے ؟ محفوظات جلد سوم من حاشیہ) شیر مارنے کی تعبیر بادشاہت فتح کرنا ہے اور جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں۔بخارا کی پہلی بادشات تو ٹوٹ چکی ہے۔اب ہمیں ملنا باقی ہے۔حضرت مسیح موعود نے رڈیا میں شیر کا شکار کیا ہے۔جس کی تعبیر یہ ہے کہ سلطنت فتح کی گئی ہے اور ہمارا تیر کمان تو دُعائیں ہی ہیں۔انہیں کے ذریعہ ہم فتح کریں گے۔