انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 382

انوار العلوم جلد ۵ ۳۸۲ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب ایک نام سمجھتے ہیں جس نے ایک خاص جماعت کو دوسرے لوگوں سے علیحدہ کر کے ان کی ہستی کو ایک خاص تمدن کے ساتھ قائم رکھا ہوا ہوتا ہے میموں میں ایسے لوگ کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں اور یہ لوگ صاحب تصنیف بھی ہوتے ہیں اور مسیحیت پر حملہ کے وقت پادریوں کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں اور دوسرے مذاہب کو مٹانے میں ان کی مدد بھی کرتے ہیں لیکن ان کو مسیحیت سے کوئی پیار نہیں ہوتا نہ وہ اس کو سچا یقین کرتے ہیں لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ صدیوں کے اثر سے مسیحیوں میں ایک خاص تمدن پیدا ہو گیا ہے جس کے وہ عادی ہو چکے ہیں اگر مسیحیت تباہ ہوئی اور اس کی جگہ کوئی دوسرا مذہب قائم ہوا تو وہ اپنا تمدن ساتھ لائے گا اور اس سے ان کی زندگی پر بھی اثر پڑے گا یا اس سبب سے نہیں بعض اور اسباب دنیادی کے سبب سے وہ اس حلقہ کا ٹوٹنا پسند نہیں کرتے۔پس وہ باوجود اس مذہب سے متنفر ہونے کے سوسائٹی کو بچانے کے لئے مسیحیت کی مد کرتے ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسی سبب سے نہ کہ کسی مذہبی تعصب کے سبب سے ایسے لوگ ترکوں کے خلاف پادریوں کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ان کو مسیحیت سے محبت نہیں ہوتی بلکہ اسلام کا جو اثر تمدن پر ان کے نزدیک پڑ سکتا ہے وہ اسے ناپسند کرتے ہیں میں اس کو مٹانا چاہتے ہیں۔بعض ایسے لوگ مسلمانوں میں بھی ہیں اور ہندوؤں میں بھی ہیں۔صرف ایک ہماری جماعت ایسی ہے کہ جس میں ایسے لوگ یا تو بالکل نہیں یا بالکل شاذ ہیں اور وہ بھی ایسے نہیں کہ جو علمی یا عملی حصہ میں کوئی وقار رکھتے ہوں۔ایک مثال مجھے اس قسم کی ایک مثال یاد آگئی بٹانہ میں میں مصر کیا تھا راستہ میں میرے ہم سفر ہندوستانیوں میں سے ایک ہند و صاحب لاہور کے باشندہ تھے جواب سنا ہے ایک کامیاب بیرسٹر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔یہ صاحب اس وقت بیرسٹری کی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور چند ماہ کے لئے گھر آئے ہوئے تھے۔ان کے ساتھ دو مسلمان طالب علم سے بھی تھے کہ وہ بھی ہندوستان رشتہ داروں سے ملنے کے لئے آئے تھے اور کچھ ماہ میں تعلیم - فارغ ہونے والے تھے۔ہمارے جہاز میں ایک پادری صاحب بھی تھے ان کے ساتھ ان ہندو صاحب کی ایک دن بحث ہو گئی اور ان صاحب نے خوب زور سے پادری صاحب پر یہ بات ثابت کرنی چاہی کہ ہندو مذہب ہی مکمل مذہب ہے اور مسیحیت اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔اس کے ایک یا دو دن کے بعد ان کی مجھ سے گفتگو ہوئی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ہستی کا تمسخر آمیز طریق پر انکار کیا۔میں نے اُن کو وہ گفتگو یاد دلائی جو انہوں نے پادری سے کی تھی تو وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ وہ تو ایک مقابلہ کی صورت تھی۔پادری اس مذہب پر حملہ کرتا تھا میں