انوارالعلوم (جلد 5) — Page 381
انوار العلوم جا اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب کے منے یہ ہیں کہ وہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور جھوٹا ہے پس جو شخص کسی مذہب کے بعض حصوں کو رد کرتا ہے وہ در حقیقت اس سارے مذہب کو رد کرتا ہے اور جوت جو شخص کسی مذہب کو جھوٹا سمجھتا ہے وہ اس کی طرف سے وکیل کیونکر کہلا سکتا ہے۔پس مقدمات پر مذہبی وکالت کا قیاس کرنا بالکل غلط اور خلاف عقل ہے۔مذہب کے کسی حصہ سے انکار اس مذہب سے نکلنا ہے کسی تعلیم کے بعض حصوں کو رد اور بعض حصول کو تسلیم اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جبکہ اس کو انسانی قرار دیا جائے۔جیسا کہ فلسفیانہ خیالات کے پیرو ہوتے ہیں کہ وہ بعض دفعہ ایک خاص جماعت فلاسفہ میں داخل ہوتے ہیں لیکن ان کے بعض خیالات کے منکر ہوتے ہیں اور اس سے اُن پر خلاف عقل کام کرنے کا الزام نہیں آسکتا کیونکہ وہ ان خیالات کو انسانی سمجھتے ہیں اور اکثر کو مان کر کچھ حصہ کا انکار کر کے بھی اس حلقہ میں داخل رہ سکتے ہیں لیکن مذہب میں یہ بات ناممکن ہے۔مذہب کے ایک شوشہ کو بھی اگر کوئی شخص یہ کہ کر رد کرتا ہے کہ ہے تو یہ مذہب کا جز ولسکین ہے غلط۔وہ عقلاً اسی وقت اس مذہب سے نکل جاتا ہے اور اس مذہب کا وکیل نہیں کہلا سکتا اور عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتی کہ وہ اس مذہب کی صداقت ثابت کرنے کے لئے تصانیف کریگا۔مذہب کو بطور تمدن ماننے والے ہاں ایک اور صورت بھی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ نہیں لوگ ایک مذہب کو جھوٹا سمجھتے ہیں لیکن اس تمدن کے عادی ہونے کے سبب سے جو اس مذہب کے ارد گرد جمع ہو گیا ہے یا بعض اور دنیا وی اغراض کے ماتحت ظاہر میں اس سے انکار نہیں کر سکتے بلکہ اس تمدن کے عادی ہونے کے سبب سے جو اس مذہب کے پیروان میں قائم ہو چکا ہے اس نظام کا ٹوٹنا بھی پسند نہیں کرتے اور میردیکھ کر کہ اگر اس مذہب کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ تمدن بھی ٹوٹ جائیگا جو اس کا جزو اور حصہ ہو چکا ہے۔وہ مذہب پر حملہ ہوتے ہوئے دیکھ کر اس مذہب کی حمایت بھی شروع کر دیتے ہیں لیکن اس سے ان کی غرض مذہب کا بچانا نہیں ہوتا بلکہ اس تمدن کا بچانا ہوتا ہے جسے اس کی اصل شکل میں یا ایک قلیل تغیر کے ساتھ وہ قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ایسے لوگوں کی حمایت بیشک چونکہ بے ھوئے پن کے سبب سے ہوتی ہے ان کی باتوں میں اختلاف اور کمزوری پائی جاتی ہے کیونکہ اس مذہب کو خدا کی طرف سے یقین نہ کر کے اس کی اصلی شکل کا قیام ان کے نزدیک ضروری نہیں ہوتا وہ اس کو صرف