انوارالعلوم (جلد 5) — Page 331
انوار العلوم جلد ۵ ایک فیلیستی ہے۔اسلام اور حریت و مساوات حضرت مسیح موعود نے حریت و مساوات پر کیوں زور دیا میں نے خواجہ صاحب کے پہلے مضمون کے جواب میں لکھا تھا کہ مذہبی مساوات کے مسئلہ کو ہمارے سامنے پیش کرنا غلطی ہے کیونکہ اس مسئلہ پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد اس کی اہمیت کے مطابق زور حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام نے ہی دیا ہے۔خواجہ صاحب میری اس بات کو میری دوسری باتوں کے متضاد خیال کرتے ہیں۔کیونکہ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر حریت و مساوات اصول اسلام میں سے نہیں ہیں تو حضرت میسج موعود علیہ اسلام نے اس پر زور کیوں دیا۔میں حیران ہوں کہ خواجہ صاحب اس قدر بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ کسی بات پر زور دینے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ بات اصول میں شامل ہو سہرا ایک چیز اپنے موقع کے مناسب توجہ چاہتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک بات چھوٹی ہو اور کسی وقت اس کی طرف کم توجہ ہو رہی ہو اس وقت بڑی باتوں کی نسبت اس کی طرف زیادہ توجہ کی جائے گی اسی طرح یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک بات خود چھوٹی ہو لیکن بڑی باتوں کے ساتھ وابستہ ہوگئی ہو۔اس لئے بڑی باتوں کی طرف توجہ کرتے وقت اس کی طرف توجہ لازما کرنی پڑے۔چونکہ لوگوں کو خدا تعالٰی کی طرف توجہ دلاتے وقت اس امر کا یقین دلانا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا دروازہ ہر ایک شخص کے لئے کھلا ہے اس لئے لوگوں کو خدا تعالیٰ تک لانے کی غرض سے نہ کہ مساوات کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے اس امر پر بھی زور دینا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ کسی قوم یا کسی ملک کے لئے بند نہیں کیا گیا۔دوسرا اعتراض خواجہ صاحب کو یہ ہے کہ جب میں نے مذہبی اور مالی مساوات میں فرق مذہبی مساوات کو تسلیم کیا ہے تو کیوں مالی مساوات کو تسلیم نہیں کرتا۔اگر ایک کوتسلیم کیا ہے تو اصولاً دوسری کو بھی تسلیم کرنا ہو گا۔یہ اعتراض بھی ان کا اقلیت تدبر سے پیدا ہوا ہے۔مذہبی مساوات پر مالی مساوات کو قیاس نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہم اس قسم کی مذہبی مساوات کے قائل ہیں جس قسم کی مالی مساوات پر خواجہ صاحب کو اصرار ہے۔اور جس کے وہ خود بھی عامل نہیں ہیں۔مذہبی مساوات پر مالی مساوات کا قیاس اس لئے نہیں کیا جا سکتا کہ اول تو مذہبی مساوات کے ی معنی نہیں ہوتے کہ انسان اپنے مذہب میں سے زائد بچا ہوا دوسرے کو دے دیتا ہے کہ ہم پر یہ FALLACY #