انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 233

انوار العلوم جلد ۵ ترک موالات اور احکام اسلام کتے ہیں کہ نصاری میں کوئی خوبی نہیں اور نصاری کہتے ہیں کہ سیور میں کوئی خوبی نہیں حالانکہ ونوں بانٹیل پڑھتے ہیں (جس میں کئی خوبیاں ہیں ، اسی طرح وہ لوگ جو جاہل تھے کہا کرتے تھے یعنی ایک دوسرے کی خوبیوں کو بالکل نظر انداز کر دیا اور لڑائی جھگڑے کے وقت نیکی اور بدی کا موازنہ نہ کرنا تو جہلاء کا کام ہے۔غرض اس آیت میں اس بات پر زور نہیں دیا گیا کہ اگر سیو دمسلمان ہوتے تو کفار سے دوستی نہ کرتے کیونکہ یہ تو ایسی بات تھی جس کے کہنے میں کوئی فائدہ نہ تھا۔اس میں کیا شبہ ہے کہ یہود کی چونکہ کفار سے جنگ نہ تھی وہ ان سے تعلق رکھتے تھے اگر وہ مسلمان ہو جاتے تو چونکہ مسلمانوں سے کفار کی جنگ تھی وہ ان سے دوستی ترک کر دیتے۔پس آیت کا یہی مطلب ہے کہ سیبو د مذہبی معاملہ میں بھی مشرکوں کی تائید کرتے ہیں اور مسلمانوں کے مذہب کی حقارت کرتے ہیں اور ان کو مسلمانوں سے اچھا قرار دیتے ہیں حالانکہ ان سے ان کو مذہب میں کوئی اشتراک نہیں لیکن مسلمانوں سے سینکڑوں اشتراک کی وجوہ موجود ہیں اگر یہ مسلمان ہوتے تو ایسا نہ کرتے یعنی اسلام نے جو اخلاق اور تہذیب سکھائی ہے وہ اس بات سے مانع ہے کہ کوئی شخص عداوت میں حق کو بھی ترک کر دے اور گویا اس طرح یہودی مذہب پر اسلام کی فضیلت ثابت کی ہے۔رافسوس ! کہ آج با وجود قرآن کریم کے احکام صریح کے مسلمان بھی اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔بار ہا متعصب لوگ کہ دیا کرتے ہیں کہ ان احمدیوں سے تو ہندو اور عیسائی اچھے ہیں۔بعض لوگ اپنے رشتہ داروں سے کہتے ہیں کہ تم عیسائی ہو جاؤ تو پرواہ نہیں مگر احمدی نہ ہو۔الہ تعالیٰ مسلمانوں کی آنکھیں کھولے ، پس اس آیت سے ترک موالات کا حکم نکالنا صریح بے انصافی ہے اور قرآن کریم کی آیات کا غلط استعمال ہے۔اگر اس آیت میں عام دوستی مراد لی جائے اگر اس آیت کے وہ معنی نہ بھی کئے جاویں جو میں نے کئے ہیں اور یہی مراد لی تو بھی اس سے ترک موالات ثابت نہیں ہوتی جائے کہ اس آیت میں عام دوستی مراد ہے تو بھی یہ آیت ترک موالات کی تائید میں نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے خلاف ہے کیونکہ اس آیت میں تو یہودیوں پر افسوس کیا گیا ہے کہ وہ مشرکوں سے دوستی کرتے ہیں پس جب قرآن کریم یہود پر اس لئے افسوس کرتا ہے کہ وہ کیوں مسلمانوں کے مقابلہ میں جو کتاب کے ماننے والے میں مشرکوں سے دوستی رکھتے ہیں تو کیا یہ مجیب بات نہیں کہ اس آیت سے یہ استدلال کیا جائے کہ انگریزوں سے جو سیجی ہیں اور قرآن کریم کے ارشاد اقربهُم مَّوَدَّةً کے مصداق ہیں یعنی سب کفار سے زیادہ مسلمانوں سے محبت رکھنے والے لا ہیں ترک موالات کیا جائے اور دوسری اقوام سے جو اہل کتاب نہیں ہیں دوستی کی جائے کیا اس۔سے