انوارالعلوم (جلد 5) — Page 232
انوار العلوم جلد ۵ ۲۳۲ ترک موالات اور احکام اسلام ان باتوں میں سے نہیں جو فطرت کے تقاضوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو سچے دل سے مسلمان ہو جاوے گا وہ یہ کام کرنے لگ جاوے گا اگر کوئی عقلی بات ہوتی یا فطرتی تقاضا ہوتا تب اس قسم کا کلام کہا جاسکتا تھا کیونکہ عقلی باتیں یا فطرتی تقاضے کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے ہر عقلمند انسان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ان کے مطابق عمل کرے گا اور جو قوم فطرت کی آواز کا جواب دینے کی عادت رکھتی ہے اس کی نسبت کہا جا سکتا ہے کہ اگر فلاں شخص اس قوم میں ہوتا تو فطرتی تقاضوں یا عقل کی باتوں کے پورا کرنے میں کوتاہی نہ کرتا مثلا گو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ افسوس ہے ہندو لوگ نماز نہیں پڑھتے اگر یہ مسلمان ہوتے تو نماز پڑھا کرتے مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ فلاں پنچ قوم کے لوگ تعلیم سے غافل ہیں اگر وہ لوگ مسیحی یا ہند و یا مسلمان ہوتے تو ایسانہ کرتے ہیں جب تک اس آیت کے الفاظ کسی عقلی قانون کی طرف اشارہ نہ کریں اس کے کوئی معنے بنتے ہی نہیں اور خدا تعالے کے حکیمانہ کلام پر حرف آتا ہے۔پس حق یہی ہے کہ یہ آیت ایک عقلی قانون کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہود اہل کتاب ہیں اور مسلمان بھی اہل کتاب میں مسلمان ان کے تمام نبیوں کو مانتے ہیں ان کی شریعت اور ان کی تعلیم کے ایک بڑے حصہ کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں اور سب سے زیادہ یہ کہ ان کی طرح ایک خدا کے ماننے والے ہیں۔پس عقل یہ چاہتی تھی کہ جو جتنا قریب ہوتا اس کے قرب کے مطابق سلوک کیا جاتا اور یہ بات بالکل خلاف عقل تھی کہ جو لوگ زیادہ قریب ہوتے ان سے دُور رہا جاتا ہے اور جو دُور ہوتے ان کی تائید کی جاتی مگر یہود الیسا ہی کرتے تھے چنانچہ قرآن کریم سود کی نسبت فرماتا ہے۔اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الكِتَبِ يُؤْمِنُونَ بالجبت والد وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سبيلاً (النساء : ٥٢) یعنی کیا تو نے دیکھا ان لوگوں کو جو کتاب میں سے حصہ دیے گئے کہ یہ بدفالیوں اور شریروں اور شیطانوں کی باتوں کو مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کفار مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔اسی کے متعلق اللہ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوگ مسلمان ہوتے تو کبھی یہ بے اصولا پن نہ کرتے بلکہ ہر ایک قوم کو اس کی حقیقی منزلت پر رکھتے چنانچہ قرآن کریم نے نہ صرف یہ کہ سلوک میں یہود و نصاری کو کفار پر فضیلت دی ہے کہ ان کی لڑکیاں لینی جائز رکھی ہیں اور مشرکوں کی نہیں ان کے کھانے جائز رکھتے ہیں اور مشرکوں کے نہیں بلکہ خود بود و نصاری کو سمجھایا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کی خوبیوں کا انکار نہ کیا کرو چنانچہ فرمایا کہ وَقَالَتِ الْيَهُودُ كَيْسَتِ النَّصرِى عَلَى شَيْ ءٍ وَقَالَتِ التَّطرى لَيسَتِ اليَهُودُ عَلى شَيء وهُم ستكون الكتبُ كَذلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ (البقرة : ۱۱۲ معني ميبود