انوارالعلوم (جلد 5) — Page 140
۱۴۰ دنیا کا آئندہ مذہب اسلام ہوگا انوار العا بیشک آج تک کسی مذہب نے تمام دنیا کو اپنے پیچھے نہیں لگایا لیکن اس میں بھی نیک نہیں که جو حالت مذاہب کی آج ہو گئی ہے وہ پہلے نہیں تھی پس کسی نئے مذہب نے نہیں بلکہ زمانہ کی حالت نے لوگوں کی توجہ کو ادھر پھیر دیا ہے کہ دنیا کا آئندہ مذہب کیا ہوگا ؟ پہلے ہر ملک کے لوگ ایک دوسرے سے علیحدہ رہتے تھے کیونکہ ایک دوسرے کے ساتھ ملنے اور تعلقات قائم کرنے کے جو ذرائع اب پیدا ہو گئے ہیں وہ اُس وقت نہ تھے اس لئے ان کا مذہب ایک خاص حلقہ تک ہی محدود رہتا تھا۔لیکن اب چونکہ ریل، ڈاک ، تار، جہانہ اور دوسرے ایسے ذرائع پیدا ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے ساری دنیا کی ایک ملک بلکہ ایک شہر کی حیثیت ہو گئی ہے اور علوم کی کثرت اور چھا پر خانہ کی وجہ سے ہر ایک مذہب کی تعلیم لوگوں کے سامنے آگئی ہے اور لوگوں میں وسعت حوصلہ پیدا ہو کر ایک دوسرے مذہب کا معائنہ کرنے کا شوق ہو گیا ہے اس لئے وہ ایک دوسرے کے مذہب پر بہت آسانی اور سہولت سے غور کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوبیاں ان پر واضح ہو سکتی ہیں۔اس صورت میں یہ معلوم کرنا بہت آسان ہو گیا ہوگئی۔ہے کہ کونسا مذہب سب سے اعلیٰ اور تمام خوبیوں کا جامع ہے۔عیسائیوں نے اس وسعت حوصلہ اور دوسرے مذاہب کے مطالعہ کے شوق سے فائدہ اپنے کے لئے اپنے مذہب کی تائید میں لاکھوں اور کروڑوں ٹرکیٹ اور کتابیں لکھ کر تقسیم کرنا شروع کر دیں اور دو سو سال کے عرصہ میں کروڑوں انسانوں کو عیسائیت میں داخل کر لیا اور ایسے ایسے علاقے جہاں کوئی عیسائیت کا نام تک نہ جانتا تھا وہاں بھی پھیلا دی اور ملک تو الگ رہے خود ہندوستان میں تمہیں چالیس لاکھ لوگوں کو عیسائی بنا لیا جب اس طرح ہر طرف عیسائیت ہی عیسائیت پھیلنے لگی تو قدرتا یہ سوال پیدا ہوا کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ لیکن اس بات نے بھی لوگوں کی آنکھیں اچھی طرح نہ کھولی تھیں کہ دنیا میں سیاسی تغیرات ایسے پیدا ہو گئے کہ سوائے عیسائیت کے اور کسی مذہب کی کوئی طاقتور حکومت نہ رہی۔دُنیا میں بڑے بڑے مذاہب تین ہیں۔ہندومت، عیسائیت اور اسلام۔ہندووں میں اپنے مذہب کے پھیلانے کے لئے کوئی خاص تحریک نہیں پائی جاتی۔تھوڑا عرصہ ہوا ان میں ایک چھوٹا سا فرقہ آریہ نکلا ہے جس میں بہت تھوڑے لوگ ہیں اور انہوں نے غیر مذاہب میں سے سوائے چند آدمیوں کو داخل کرنے کے اور کچھ نہیں کیا۔اس فرقہ کی کوششیں ان ادنی اقوام تک ہی محدود ہیں جو دراصل ہندو ہی ہیں۔باقی رہے مسلمان اور عیسائی۔عیسائیوں کے متعلق تو میں نے بتایا ہے کہ انہوں نے