انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 75

انوار العلوم جلد ۵ صداقت اسلام طرف سے تھی جو بالارادہ کام کرتی ہے۔جیسی کسی کی حالت ہوتی ہے اسی کے مطابق اس سے سلوک کرتی ہے۔یہی یہ پیش گوئی اسلام کی صداقت کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کا خدا مشین کی طرح نہیں ہے کہ وہ امتیاز نہیں کر سکتا۔بلکہ ایک بالا رادہ ہستی ہے۔ہمارے مخالف سمجھتے ہیں کہ یہ پیش گوئی غلط نکلی۔مگر ان کو دھوکا لگا ہوا ہے اصل میں یہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔دیوانہ کتے کے کاٹے کا بچنا اب کچھ اور باتوں کو لیتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے جو باتیں پیش کی ہیں ان۔سے اسلام کا جلال اور صداقت ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو ایسی باتیں بتائیں جو سوائے یار غمگسار کے کسی کو نہیں بتاتا۔ایک دفعہ ایک لڑکے کو دیوانہ سکتے نے کاٹا اور اسے کسولی بھیج کر علاج کرا یا گیا لیکن جب وہاں سے واپس آیا تو تھوڑے سے عرصہ کے بعد اسے بڑک اُٹھی اس حالت کے متعلق تمام طبی کتابوں میں یہی لکھا ہے اور ڈاکٹر بھی اس سے متفق ہیں کہ جس کو سگ گزیدہ کی ہڑک اُٹھنے لگے اس کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا چنانچہ اس لڑکے کی بیماری کی خبر جب کسولی دی گئی تو وہاں سے جواب آیا۔SORRY NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM زنتمہ حقیقت الوحی صدام ، روحانی خزائن جلد ۲) افسوس که عبدالکریم کے متعلق کچھ نہیں کیا جاسکتا۔چونکہ وہ لڑکا دور دراز سے دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آیا ہوا تھا۔اس لئے حضرت مرزا صاحب کو خیال ہوا کہ یہ ابتدائی زمانہ ہے چاروں طرف سے مخالفت ہو رہی ہے یہ لڑ کا اگر فوت ہو گیا تو اس کے ماں باپ کو جنہوں نے اتنی دُور سے اسے تعلیم دین کے لئے بھیجا ہے بہت صدمہ ہوگا اور مخالفین بھی شور مچائیں گے اس لئے اس وقت جب کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا تھا اس کے لئے دُعا کی اور وہ بچ گیا۔چنانچہ اس وقت تک وہ لڑکا زندہ ہے۔آج تک ہزاروں سالوں سے اس قسم کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی کہ کوئی ایسا بیمار اچھا ہوا ہو۔وہ صرف حضرت مرزا صاحب کی دُعا کی وجہ سے بچ گیا۔یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا بہت بڑا نشان ہے جو حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ ظاہر ہوا۔اسی طرح اور ہزاروں نشانات ظاہر ہوئے جن میں سے مایوس العلاج مریض کا شفا پا نا مثال کے طور پر ایک اور پیش کرتا ہوں۔نواب مھد علی محمد خان صاحب جو موجودہ نواب صاحب مالیر کوٹلہ کے ماموں ہیں اور میں نے سُنا ہے کہ آج یہاں آئے