انوارالعلوم (جلد 5) — Page 76
64 صداقت اسلام ہوئے ہیں۔ان کے ایک لڑکے کو ٹائیفائیڈ بخار ہو گیا جس کا علاج ایک یونانی حکیم مولوی نور الدین صاحب جو مہا راجہ صاحب جموں کے خاص طبیب رہ چکے تھے اور دو ڈاکٹر کر رہے تھے لیکن ایک وقت اس پر ایسا آگیا کہ معالج بالکل گھبرا گئے اور انہوں نے کہ دیا کہ اب یہ لڑکا نہیں بیچ سکتا۔اس کی خبر جب حضرت مرزا صاحب کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ میں اس کی صحت کے لئے دُعا کروں گا۔آپ نے دعا کی، لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ اب یہ نہیں بیچ سکتا۔اس پر حضرت مرزا صاحب نے کہا۔میں اس کی صحت کے لئے سفارش کرتا ہوں۔اس پر انہیں الہام ہوا۔تو کون ہے جو بلا اجازت سفارش کرتا ہے (تذکرہ من ایڈیشن چهارم) اس وقت کے متعلق حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ میری ایسی حالت ہو گئی کہ میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔اس وقت آواز آئی اچھا تم کو اجازت دی جاتی ہے۔اب سفارش کرو۔یہ سُن کر حضرت مرزا صاحب نے دعا کی اور انہیں بتایا گیا کہ اب یہ لی کا بچ جائے گا۔چنانچہ آدھ گھنٹڈ کے بعد ہی اسے ہوش آگئی اور وہ بچ گیا۔اب ولایت تعلیم حاصل کرنے کے لئے گیا ہے۔اس موقع پر پرکسی شخص نے لکھ کر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایک سوال کا جواب کو یہ سوال دیا کہ آپ کا مضمون تو یہ تھا کہ اسلام کی صداقت تازہ نشانات کے ساتھ مگر آپ نے مرزا صاحب کے نشانات کو پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔اس کے متعلق حضور نے فرمایا : میرے مضمون کا پہلا حصہ اسلام کی صداقت کے دلائل کے متعلق تھا جوئیں نے بیان کئے اور دوسرا حصہ اسلام کی صداقت کے مشاہدہ کا ہے جس کے لئے حضرت مرزا صاحب کے نشانات کو پیش کر رہا ہوں اور یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہم حضرت مرزا صاحب کو ان کی ذات کی وجہ سے نہیں مانتے بلکہ اس لیے مانتے ہیں کہ ان کے وجود سے اسلام کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔اس لئے ان کی صداقت کے نشان دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے نشان ہیں کیونکہ حضرت مرزا صاحب اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔اسلام کی صداقت کے متعلق پادری لیفرانے کو چیلنج پھر حضرت مرزا صاحب نے دعا کے ذریعہ اسلام کی سچائی کا فیصلہ کرنے کے لئے پادری لیفرائے کو مد نظر رکھ کر چیلنج دیا اور لکھا آپ عیسائیت کی طرف سے کھڑے ہوں اور یں اسلام کی طرف سے کھڑا ہوتا ہوں۔اور دعا کرتے ہیں کہ جو مذہب سچا ہے خدا اس کی تائیدمیں نشان