انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 585

انوار العلوم جلد ۵ ۵۸۵ ہدایات زریں وغیرہ علوم کی اتنی اتنی واقفیت ضرور رکھتا ہو جتنی مجلس شرفاء میں شامل ہونے کے لئے ضروری ہے۔اور یہ کوئی مشکل کام نہیں تھوڑی سی محنت سے یہ بات حاصل ہو سکتی ہے۔اس کے لئے ہر علم کی ابتدائی کتابیں پڑھ لینی چاہئیں۔پھر واقعات حاضرہ سے واقفیت ہونی چاہئے۔مثلاً کوئی پوچھے کہ مسٹر گاندھی کون ہے اور مبلغ صاحب کہیں کہ میں تو نہیں جانتا۔تو سب لوگ ہنس پڑیں گے اور اسے حقیر سمجھیں گے ایس لئے ایسے واقعات سے جو عام لوگوں سے تعلق رکھتے ہوں اور روزمرہ ہو رہے ہوں ان سے اقفیت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔پانچویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ غلیظ نہ ہو۔ظاہری خاطت پانچویں ہدایت کے متعلق بھی خاص خیال رکھا گیا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسجد میں کوئی تھوکتا ہے تو یہ ایک غلطی ہے۔اس کا کفارہ یہ ہے کہ تھوک کو دفن کرے۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفه ۱۷۳ ) حضرت صاحب کی طبیعت میں کتنی برد باری تھی۔مگر آپ نے اس وجہ سے باہر لوگوں کیساتھ کھانا کھانا چھوڑ دیا کہ ایک شخص نے کئی چیزیں ساگ ، فرنی ، زردہ ، شور با وغیرہ ملا کر کھایا۔فرماتے تھے کہ اس سے مجھے اتنی نفرت ہوئی کہ قے آنے لگی۔اس کے بعد آپ نے باہر کھانا کھانا چھوڑ دیا۔اور اس طرح لوگ اس فیض سے محروم ہو گئے جو آپ کے ساتھ کھانا کھانے کے وقت انہیں حاصل ہوتا تھا۔پھر حضرت صاحب فرماتے اور میری طبیعت میں بھی یہ بات ہے کہ اگر استرے سے سر کو منڈوا کر کوئی سامنے آئے تو بہت برا لگتا ہے اور مجھے تو اسے دیکھ کر سر درد شروع ہو جاتی ہے تو ظاہری صفائی اور ظاہری حالت کے عمدہ ہونے کی بھی بہت ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو نفرت نہ پیدا ہو۔اور وہ بات کرنا تو الگ رہا دیکھنا بھی نہ چاہیں۔مگر ظاہری صفائی سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ کالر اور نکٹائی وغیرہ لگانی چاہئے اور بال ایک خاص طرز کے بنائے جائیں۔ان میں سے بعض باتوں کو تو ہم تو کہیں گے اور احض کونا جائز، مگر جوضروری صفائی ہے یعنی کوئی غلاظت نہ لگی ہو یا کوئی بُودار چیز نہ لگی ہو اس کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔ہاں یہ بھی نہ کرے کہ ہر وقت کپڑوں اور جسم کی صفائی میں لگا رہے۔کیونکہ اگر ایسا کرے گا تو پھر کام خراب ہو جائے گا۔