انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 574

ہدایات در کر سکتا ہے ؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ وہ خدا جس نے یہ کام بندوں کے ذمہ لگایا ہے اس نے ان کو بے مدد گار نہیں چھوڑا۔اگر مبلغ بے ساتھی و مدد گار کے ہوتا تو اتنے بڑے کام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہ کرسکتا۔مگر خدا تعالیٰ نے مبلغ کو دو مدد گار دیئے ہیں جن کی امداد سے وہ تبلیغ کر سکتا اور کامیاب ہوسکتا ہے۔اس کے راستہ میں روکیں آتی ہیں مشکلات پیدا ہوتی ہے مگر ان دو مددگاروں سے کام لے کر وہ سب روکوں کو دور کر سکتا ہے۔وہ مدد گار کون سے ہیں ؟ ان میں سے ایک کا نام تو عقل ہے اور دوسرے کا نام شعور۔جب مبلغ ان دو مدد گاروں کی مدد حاصل کرتا ہے تو پھر اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔آگے چل کہ میں تشریح کروں گا کہ عقل سے میری کیا مراد ہے اور شعور سے کیا ؟ اس جگہ اتنا ہی بتاتا ہوں کہ یہ مبلغ کے مددگار ہیں۔جب کوئی تبلیغ کے لئے جائے تو ان کو بلالے اور جب ان کی مدد اسے حاصل ہو جائے گی تو وہ وہ کام بہت خوبی کے ساتھ کرلے گا جو حکومتیں بھی نہیں کر سکتیں۔عقل کی مدد سے مراد ہر ایک انسان میں خدا نے عقل بھی پیدا کی ہے اور شعور بھی عقل سے میری مراد وہ مادہ اور انسان کے اندر کی وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان دلائل کے ساتھ معلوم کرتا ہے کہ فلاں بات درست ہے یا غلط بے شک بعض دفعہ انسان ضدی بن جاتا ہے اور ایک بات کو صحیح اور درست جانتا ہوا اس کا انکار کر دیتا ہے۔لیکن یہ حالت بہت گند اور بہت دیر کی گمراہی کے بعد پیدا ہوتی ہے در نہ کثیر حصہ لوگوں کا ایسا ہی ہے کہ عقل کے فیصلہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا جب اس کے سامنے ایسی باتیں پیش کی جائیں جو عقلی طور پر صحیح ثابت ہوں تو وہ ان کا انکار نہیں کر سکتا جس کا مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کو عقلی لحاظ سے ایک مبلغ معقول اور مدلل سمجھتا ہے۔ان کو دوسرے لوگ بھی معقول سمجھتے ہیں بشر طیکہ اندھے کی بصارت کی طرح ان کی عقل بالکل مردہ نہ ہوگئی ہو اور وہ اس کو بالکل مارنہ پچکے ہوں مگر جس طرح اندھے بہت کم ہوتے ہیں۔اسی طرح عقل کے اندھے بھی کم ہی ہوتے ہیں اور عموماً لوگ عقل کو مارتے نہیں۔کیونکہ انہیں اس سے دنیاوی کام بھی کرنے ہوتے ہیں نہیں لوگ عقل سے ضرور کام لیتے ہیں۔اور جب ان کے سامنے ایسی باتیں پیش کی جائیں۔جو عقلی طور پر معقول ہوں تو وہ عقل سے کام لے کر ان کو تسلیم کرلیتے ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ نے عقل کے بہت سے دروازے رکھے