انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 547

انوار العلوم جلد ۵۴۷ علا نكتة الله حضرت خلیفہ اول سنا تھے تھے کہ آپ کا ایک داماد وہابی تھا۔آپ سے ملنے کے لئے ایک دنہیں آیا جس کا پاجامہ تخنے سے نیچے تھا۔اس نے اس کے تھنے پر مسواک ماری اور کہا تو جہنمی ہے کہ اس طرح پاجامہ پہنے ہوئے ہے۔اس پر رئیس نے گالی دے کر کہا میں خدا اور رسول کو ہی نہیں ما نشادہ کیا ہوتے ہیں ؟ حضرت خلیفہ اول نے اپنے داماد کو کہا تو نے اچھی نصیحت کی ہے کہ اسے کا فرنا دیا۔غرض ایک تحریک بظا ہر نیک معلوم ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ بدنکلتا ہے۔یہ تحریک ملک کی طرف سے نہیں ہوتی۔تلک وہی تحریک کرے گا کہ جس کا نتیجہ بھی نیک ہی ہو گا فرشتہ کی تحریک چونکہ خدا تعالیٰ کی تحریک کے ماتحت ہوتی ہے اس لئے وہ بد نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی۔پس کسی تحریک کے پیدا ہونے پر جہاں یہ دیکھ لو کہ نیک ہے وہاں یہ بھی دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ بھی نیک ہے یا نہیں۔ی به و تو مجھ اور کی ہے تک کی سے نہیں۔ہاں نتیجہ اگر نتیجہ بد ہو تو سمجھ لو کہ شیطان کی طرف سے ہے ملک کی طرف سے نہیں۔ہاں اگر نتیجہ نیک ہے تو ملک کی طرف سے ہو گی۔دوسرا طریق شیطان اور ملک کی تحریک میں موازنہ کرنے کا یہ ہے کہ فرشتے کی تحریک میں موازنہ ہوتا ہے۔لیکن شیطان کی تحریک ایسی نہیں ہوتی۔شیطان ایک نیکی کراتا ہے لیکن اس کی وجہ سے اس سے بڑی نیکی کو چھڑانا اس کے مد نظر ہوتا ہے۔مثلاً نماز کی جماعت ہو رہی ہے ادھر خیال پیدا ہوتا ہے کہ نفل پڑھیں اب اگر جماعت کے چھوٹ جانے کی پرواہ نہ کی جائے اور نفل پڑھے جائیں تو یہ شیطانی تحریک ہوگی کیونکہ بڑی نیکی کو چھوٹی نیکی کے لئے ترک کر دیا گیا۔سرسید احمد صاحب کو جب کہا گیا کہ آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے تو انہوں نے کہا کہ یہ کام بھی دین ہی کا ہے جو میں کرتا ہوں ان کے کام کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس میں فنا ہو گئے ہیں۔اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ اس کام کو بدی سمجھ کر کرتے تھے۔نیکی سمجھ کر ہی کرتے تھے مگر چھوٹی نیکی پر انہوں نے بڑی کو قربان کر دیا۔اس لئے یہ کام ان کا فرشتے کی تحریک سے نہیں کہلا سکتا۔غرض بعض دفعہ شیطانی تحریک بھی نیک ہی ہوتی ہے مگر بڑی نیکی کو چھڑا کر چھوٹی نیکی کرائی جاتی ہے۔شاہ ولی اللہ صاحب اپنے خاندان کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کی ایک عورت بہت ذکر اللہ کیا کرتی تھیں اور ان کے ایک بھائی ان کو اس امر سے روکتے تھے اور کتے تھے کہ نماز زیادہ پڑھا کرو، وہ جواب دیتیں کہ مجھے اس میں بہت لطف آتا ہے۔اس پر وہ کہتے تھے کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے آخر بڑھتے بڑھتے سنتیں اور پھر فرض شیطان چھڑوائے گا۔کچھ مدت کے بعد بہن نے بھائی کو بتایا کہ واقع میں اب ایسا ہونے لگا ہے کہ سنتوں میں بھی مزا جاتا رہا ہے آپ