انوارالعلوم (جلد 5) — Page 535
انوار العلوم جلد ۵ ۵۳۵ ڈالتا ہے۔پہلے تو سب دروازوں پر ایک فرشتہ تھا کہ وہ چکر لگاتا اور دیکھتا رہے کہ کسی دروازے سے شیطان داخل نہ ہو سکے پھر ترقی کرتے کرتے اس طرح ہوتا ہے کہ ہر سوراخ پر فرشتہ مقرر ہو جاتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : لَهُ مُعَقِبَتْ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أمر الله (الرعد : ۱۲) لوگوں نے غلطی سے اس آیت کو ہر انسان کے متعلق سمجھا ہے مگر اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ذکر ہے۔اور لن کی ضمیر آپ ہی کی طرف جاتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہمارا ایسا بندہ ہے کہ اس کے آگے اور پیچھے محافظ مقرر ہیں۔کوئی شیطانی تحریک نہیں جو شیطانی ہو کر اس کے پاس پہنچے ہر ایک شیطانی تحریک اس کے پاس آکر رک جائے گی اور اس تک نہیں پہنچ سکے گی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہرانسان کے لئے ایک ہی فرشتہ مقرر ہوتا ہے۔لیکن جو خدا کے خاص مقرب ہوتے ہیں۔ان کے لئے کئی کئی ہوتے ہیں۔چنانچہ اس کا لطیف ثبوت دوسری جگہ سے بھی ملتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ترقی کرتے کرتے مؤمن اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے کہ اس کے ہر سوراخ پر فرشتے بیٹھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : - وَالمَلَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ عَلِ بابه سَلامُ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِه (الرعد : ۲۲-۲۵) فرمایا جب انسان مرنے کے بعد جنت میں جائیں گے تو ملائکہ ہر دروازے سے آکر ان کو سلام کریں گے اور کہیں گے کہ تمہارے صبر کے بدلہ میں تم پر سلامتی ہو۔اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ بہت سارے فرشتے ہوں گے اس لئے مختلف دروازوں سے آکر سلام کریں گے کیونکہ اگر بہت فرشتے ہوں تو وہ بھی ایک ہی دروازہ سے آسکتے ہیں۔اور اگر کہا جائے کہ اتنا ہجوم ہو گا کہ ایک دروازہ سے نہیں آسکیں گے تو پھر اس کے بیان کرنے کی کیا ضرورت اور کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ایک دروازہ سے آئیں یا مختلف دروازوں سے آئیں ایک ہی بات ہو گی۔اصل میں اس کے یہی معنے ہیں کہ قیامت کے دن ہر دروازہ کا فرشتہ آئیگا اور آکر مبارک باد دے گا کہ تم اس میں کامیاب ہوگئے ہو جس میں میں اور تم دونوں مل کر شیطان کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔اس وقت فرشتہ کو بھی خوشی ہوگی اور انسان کو بھی۔تو ہر سوراخ کا فرشتہ اسے سلامتی کی دعا دے گا۔رہی یہ بات کہ آیا کئی دروازے ہوتے ہیں یا نہیں یہ موٹی بات ہے اور ہر انسان جانتا ہے که بیرونی چیزوں کے اثر کرنے کے کئی ذرائع ہیں کبھی انسان آنکھ سے روپیہ دیکھتا ہے تو اس کے دل میں لالچ پیدا ہوتی ہے اور وہ چوری کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔اگر اس کی آنکھیں نہ دیکھتیں تو یہ