انوارالعلوم (جلد 5) — Page 536
۵۳ ملائكة الله خیال بھی اس کے دل میں نہ پیدا ہوتا۔پھر کبھی انسان سنتا ہے کہ فلاں کے پاس بہت مال ہے تو چوری کا خیال پیدا ہو جاتا ہے۔اگر وہ نہ سنتا تو یہ خیال بھی اسے پیدا نہ ہوتا۔اسی طرح بعض خیال چھونے کے ذریعہ سے بعض سونگھنے کے ، بعض چکھنے کے ذریعہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔تو بدی یا نیکی کی تحریکیں اتنی ذرائع سے پیدا ہوتی ہیں اور ان ہی راستوں کے ذریعہ شیطان اس کے اندر داخل ہوتا ہے ان پر ایک ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے جو حفاظت کرتا رہتا ہے اور کسی بڑی تحریک کو اندر نہیں جانے دیتا۔لیکن خاص اور عام لوگوں کے ان محافظ فرشتوں میں ایک فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ عام کے محافظ تو صرف بری تحریکوں کو اندر جانے سے روکتے ہیں لیکن خاص کے محافظ بری تحریکوں کو بھی نیک کر کے اندر جانے دیتے ہیں۔مثلاً ایسا انسان جب سنتا ہے کہ فلاں دولت مند ہے تو بجائے اس کے کہ اس کے دل میں یہ تحریک ہو کہ ڈاکہ مار کر اس کا مال حاصل کرے اس کے دل میں یہ تحریک ہوتی ہے کہ خدا اسے اور بھی دے اور یہ نیک کاموں میں صرف کرے۔غرض اس طرح ان کے اندر ہر تحریک نیک ہو کر جاتی ہے مگر خدا کے نبیوں کے ساتھ ان فرشتوں کے لیی دو کام نہیں ہوتے کہ اول کسی بڑی تحریک کو اندر نہیں جانے دیتے اور دوسرے اس کو نیک کر کے اندر جانے دیتے ہیں بلکہ ان کے دل میں پیدا ہونے والی تحریکوں کے باہر بھی نیک اثرات پیدا کرتے ہیں۔خدا کے نبی کے بات کرتے وقت ، اس کے کسی کی طرف دیکھتے وقت ، کسی کو چھوتے وقت ، غرضیکہ ان کی ہر حالت میں فرشتے نیک اثر پیدا کرتے رہتے ہیں۔شاید کوئی کسے کہ کسی کے مال کو دیکھ کر جب کسی کے دل میں چوری کا خیال پیدا ہوتا ہے تو یہ اس کے اندر پیدا ہوتا ہے۔باہر نہیں پیدا ہوتا۔اس لئے فرشتے اس کے متعلق کیا حفاظت کر سکتے ہیں۔گو یہ بات غلط ہے کیونکہ چوری کا جو خیال پیدا ہوگا وہ کسی محترک سے ہی پیدا ہوگا اور محترک چیز با ہر ہی ہوگی۔مگر یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسروں کے بدخیالات کا بھی اثر ہوتا ہے، ایک کے بڑے خیالات دوسرے کے دل پر اثر کر دیتے ہیں۔اور یہ اثر چھونے، باتیں کرنے یا پاس بیٹھنے سے ہوتا ہے یہ بات علمی طور پر بھی ثابت ہے مسمریزم ایک علم ہے۔اس میں ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے۔سو گیا سو گیا۔اور اپنے دل میں خیال لاتا ہے کہ سو گیا۔جب زور سے یہ خیال اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے تو وہ شخص فی الواقع سو جاتا ہے۔پھر یہاں تک ہو جاتا ہے کہ اسے کہا جاتا ہے۔لکڑی کی طرح سخت ہو جا تو وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے اس وقت اگر اسے اپنی طرزہ پر لٹا کر کہ اس کی کمر کے