انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 484

۴۸۴ سے ہیں ان میں بھی ملائکہ کا ذکر پایا جاتا ہے۔پھر مصر اور یونان کے آثار قدیمہ میں بھی ملائکہ کا ثبوت پایا جاتا ہے۔اور ایسی وحشی قومیں جن کے نام کا بھی پتہ نہیں لگتا ان کے آثار اور ضرب الامثال بھی ملائکہ کا پتہ لگتا ہے کبھی جگہ تولیوں ذکر ہے کہ پروں والی ایک مخلوق ہے جو انسان کو سزا دیتی ہے۔اور کسی جگہ اس قسم کی تصویریں ملتی ہیں جو ئی کئی ہزار سال کی ہیں کہ پروں والی تصویریں اوپر سے نیچے کی طرف آرہی ہیں۔اس قسم کی باتوں سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں بھی ملائکہ کا خیال پایا جاتا تھا۔پس تمام اقوام میں ملائکہ کے خیال کا پتہ لگتا ہے۔سب سے زیادہ زرتشتیوں میں۔ان سے اتر کر بیہو دیوں میں۔ان سے اتر کر ہندوؤں میں۔اور دوسری پرانی اقوام میں بھی پایا جاتا ہے عیسائیوں میں بھی۔حتٰی کہ پولوس نے بحث اُٹھائی ہے کہ ان کی عبادت جائز ہے یا نہیں ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسی تعلیم تھی جس کا اثر تمام قلوب پر تھا۔اور جس طرح خدا تعالیٰ کے متعلق ہر ایک قوم کے ایمان کو دیکھ کر انسان کہہ سکتا ہے کہ شروع سے تمام لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے چلے آتے ہیں اور یہ ثبوت ہے خدا تعالیٰ کی ہستی کا۔اسی طرح جب وہ قومیں جن کے تمدن آپس میں نہیں ملتے جن کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلقی ثابت نہیں ہوتا وہ ساری کی ساری ملائکہ کی قائمل پائی جاتی ہیں تو یہ لائنکہ کے ہونے کا ایک زبر دست ثبوت ہے۔زرتشتی مذہب میں ملائکہ کا ذکر زرتشتیوں میں یہ عجیب بات پائی جاتی ہے کہ ان میں فرشتوں کے جو نام آئے ہیں اور وہ نام جو مسلمانوں میں ہیں آپس میں ملتے جلتے ہیں اور ان کے کام بھی آپس میں ملتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ خدا دو ہیں۔ایک تاریخی کا اور ایک نور کا۔نور سے خدا کی یہ منشاء ہے کہ ظلمت کے خدا کو کزور کر دے۔اور کہتے ہیں ایک وقت آئے گا جب ظلمت کا خدا کزور ہو جائے گا نیکی کے خدا کو یزدان اور بدی کے خدا کو اہرومانہ اور بالعموم اہرمن کہتے ہیں یعنی تاریخی کا آدمی۔اس نام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے معنے شیطان تھے خدا نہ تھے لیکن وہ کہتے ہیں کہ خدا کے مقابلہ میں یہ بدی کا خدا ہے اور یہی بدیاں کراتا ہے۔زرتشتیوں کی مذہبی زبان اوستا میں بڑے فرشتوں کو امیشیا کہتے ہیں جو کہ امیش سے نکلا ہے جس کے معنے غیر فانی کے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ فرشتے غیر فانی ہوتے ہیں۔جس طرح انسانی روح فنا سے محفوظ رکھی گئی ہے۔اسی طرح ان کو بھی ہمیشہ کی زندگی عطا کی گئی ہے۔زرتشتیوں کا عقیدہ ہے کہ فرشتے تمام نیکیوں اور مذہب کا سرچشمہ ہیں اور اصولاً خدا تعالیٰ کے