انوارالعلوم (جلد 5) — Page 483
النوار العلوم جلد ۵ ۴۸۳ ایمان میں داخل ہے وہ لغو نہیں ہے بلکہ اس کے بہت بڑے فوائد ہیں۔پس چونکہ یہ ایک ایسا مضمون ہے کہ جس سے عام لوگوں کو لگاؤ نہیں اس لئے اس کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے۔بنی تعلیم کی وجہ سے ملائکہ پر بھی اعتراض کئے جاتے ہیں مگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو ثابت کر سکتے ہیں اور اسی طرح ثابت کر سکتے ہیں جس طرح اور بہت سی چیزوں کو ثابت کیا جاتا ہے جو نظر سے غائب ہوتی ہیں۔اور تم ملائکہ کے متعلق ایسے ثبوت دے سکتے ہیں کہ ہر شخص ان کو سمجھ سکتا ہے بشر طیکہ تعصب کی پٹی اس کی آنکھوں پر نہ بندھی ہو۔کیا ملائکہ نہیں ہیں ؟ آج کل نئی تعلیم کے اثر سے بالعموم مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ ملائکہ کا کوئی وجود نہیں ہے۔بلکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو قوت پیدا ہوتی تھی اس کا نام ملائکہ رکھ دیا گیا ہے۔اور یہ جو نام جبرائیل یا میکائیل رکھ دیئے گئے ہیں ان کی غرض یہ ہے کہ لوگوں میں چونکہ ان کا خیال پھیلا ہوا تھا اور یہ نام رائج تھے اس لئے اپنی باتوں کو زیادہ موثر بنانے کے لئے ان کے نام لے دیئے گئے ہیں۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ملائکہ کا وجود اس زور کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے بعد اگر کثرت کے ساتھ کوئی مسئلہ پایا جاتا ہے تو ملائکہ کا ہی ہے۔وحشی سے وحشی قوموں کے حالات سے بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ ملائکہ کو مانتے تھے۔بہت سے مذاہب ایسے ہیں جن کی تعلیمیں اب دنیا میں پائی نہیں جاتیں مگر ان کے آثار قدیمہ سے ملائکہ کا پتہ لگتا ہے اور جو ندا سب موجود ہیں ان میں تو نہایت صفائی کے ساتھ ان کا ذکر پایا جاتا ہے۔دیگر مذاہب میں ملائکہ کا ذکر چنانچہ قدیمی مذاہب میں سے سب سے زیادہ زرتشتی مذہب میں بیان کیا گیا ہے۔اس مذہب کے لوگوں نے جس صفائی کے ساتھ ملائکہ کے متعلق بیان کیا ہے (اگرچہ انہوں نے اس بیان میں غلطیاں بھی کی ہیں) مجھے افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اتنا مسلمانوں نے نہیں کیا۔ان لوگوں نے ملائکہ کا ذکر نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ان کے بعد دوسرے درجہ پر یہودی ہیں۔یہ چونکہ تازہ ہی مذہب ہے اور کوئی بہت زیادہ زمانہ اس پر نہیں گزرا اور اس کی حفاظت بھی ایک حد تک ہوتی رہی ہے اس میں بھی ملائکہ کے متعلق بہت سی تعلیم موجود ہے۔ان کے بعد ہندو ہیں۔ان کا مذہب اگر چہ بہت قدیم کا ہے مگر ان میں بھی ملانکہ کو تسلیم کیا گیا ہے۔گو آج کل یہ لوگ ان کی اور تشریحیں کر دیں۔اسی طرح چین کے لوگوں کی جوبرانی کتابیں