انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 468

انوار العلوم جلد ۵ اصلاح نفس کے لئے کہا جائے تو اس کی آنکھیں جھک جائیں اور شرمندگی کے مارے پسینہ آجائے۔ایسے شخص کے متعلق کہیں گے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے رحم کا مستحق بنانا چاہتا ہے۔لیکن اگر کوئی نصیحت کرے اور آگے سے کہا جائے تو کون ہے مجھے نصیحت کرنے والا ؟ تو اس کے متعلق یہی کہیں گے کہ وہ اصلاح پانے کا مستحق نہیں ہے۔توکم از کم اتنا تو ہوکہ سمجھانے والے سے لڑتے نہ پھرو۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سمجھانے والے لوگوں کو مجلسوں میں شرمندہ کرتے پھریں۔انہیں خود اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔پھر بعض لوگ شعائر اللہ کی ہتک کرتے ہیں۔گناہ اور چیز ہے مگر شعائر اللہ کی ہتک بہت بُری بات ہے۔ایک شخص گناہ کرتا ہے مگر اس پر شرماتا ہے تو اس کی شرمندگی خدا کے رحم کو کھینچتی ہے۔گر ایک اور شخص ہے جو علی الاعلان رشوت لیتا ہے یا سود لیتا ہے یا نماز چھوڑتا ہے یا دو بیویاں کر کے ایک کو معلقہ کرتا ہے۔تو وہ شعائر اللہ کی ہتک کرنے والا ہے اور ایسا شخص قابل رحم نہیں ہو سکتا۔ایسے گناہ جو مخفی کئے جائیں اور جن پر شرمندگی لاحق ہو وہ قابل عفو ہوتے ہیں۔مگر علی الاعلان شعائر اللہ کی ہتک کرنے والے گناہ معاف نہیں کئے جاتے۔کفار کے متعلق خُدا کے وعدے پھر جہاں آپ لوگوں نے وہ وعدے سنے ہیں جو خدا تعالیٰ نے مومنوں سے کئے ہیں۔وہاں یہ بھی تو دیکھو کہ خدا نے کفار کے متعلق کیا کہا ہے۔اور کس قدر عذاب کے ان سے وعدے کئے ہیں ؟ فرماتا ہے۔وَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُوا فَمَا وَهُمُ النَّارُ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أَعِيدُوا فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِى كُنتُم بِهِ كَذِبُونَ ، وَلَنُذِيقَهُمُ منَ الْعَذَابِ الآن دُونَ الْعَذَابِ الرِ لَعَلَّهُمْ يُرْجِعُونَ (السجدة : ۲۲۰۲۱) ان آیات میں خدا نے بتایا ہے کہ یہ لوگ اس دنیا میں بھی دُکھ پائیں گے اور اگلے جہان میں انہیں مبت زیادہ عذاب دیا جائے گا۔پھر عذاب کی نوعیت کے متعلق فرمایا۔إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا لِلطَّعِينَ مَابًا ، تَبِثِيْنَ فِيهَا احْقَابًا ، لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بُرا وَلَا شَرَابَا الحَما وَتَانًا جَزَاءُ وَفَاقًا (النياء : ۲۲ تا ۲۴) کہ جتم ان کافروں کی انتظار میں گھات لگائے ہوئے ہو گا جو خدا کی باتیں نہیں مانتے تھے ان کو آگ میں ڈالا جائے گا۔اور گرم پانی اور پیپ پینے کے لئے دی جائے گی۔پھر فرماتا ہے۔جس طرح مومن کے لئے وعدہ تھا کہ جو چیز وہ چاہے گا وہی اسے مل جائے گی۔