انوارالعلوم (جلد 5) — Page 392
انوار العلوم جلد ۵ ٣٩٢ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب نا واقف کون ہے ؟ اب میں پروفیسر صاحب کے اصل مضمون کا جواب دے چکا ہوں لیکن پیشتر اس کے کہ میں اپنے مضمون کو ختم کروں پروفیسر صاحب کے ایک اور اعتراض کا بھی جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں کہ میں نے لالہ لاجپت رائے صاحب کے اس قول سے کہ بعض ہند و اصول پندرہ سو برس سے ہندوؤں کی تباہی کا موجب ہیں جو یہ نتیجہ نکاں ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ ہندو مذہب کے اصول سے ان کو مخالفت ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ مجھے ہندو مذہب سے نا واقفیت ہے کیونکہ لالہ لاجپت رائے ہی نہیں تمام آریہ سماج اس امر کا قائل ہے کہ ہندو مذہب کی موجودہ حالت قابل تسلی نہیں۔پروفیسر رام دیو صاحب کے اس اعتراض کے متعلق میرے لئے اسی قدر کردینا کافی ہے کہ میری تحریر سے ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ مجھے ہندو مذہب سے واقفیت نہیں لیکن پروفیسر صاحب کی تحریر سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ پروفیسر صاحب کو اس تحریر سے بھی ناواقفیت ہے جس کا وہ جواب لکھنے بیٹھے ہیں کیونکہ نہ لالہ لاجپت رائے صاحب کا وہ قول ہے جو پروفیسر صاحب بیان کرتے ہیں اور نہ میرا وہ استدلال ہے جس پر پروفیسر صاحب اعتراض کرتے ہیں۔لالہ لاجپت رائے صاحب کا یہ قول نہیں کہ ہندو مذہب کے بعض خیال پندرہ سو سال سے ہماری تباہی کا موجب ہو رہے ہیں بلکہ یہ قول ہے کہ خواہ پرانے زمانہ کی نسبت یہ اعتراض درست نہ ہو کہ ہندوستانی قدرت کی طاقتوں سے مرعوب ہیں مگر پندرہ سو سال سے تو ضرور یہ خیال ہماری تباہی کا موجب ہو رہا ہے اور میرا یہ استدلال نہ تھا کہ لالہ لاجپت رائے صاحب ہندوؤں کی موجودہ حالت کو نا قابل تسلی سمجھتے ہیں بلکہ یہ تھا کہ وہ موجودہ حالت ہی کو ناقابل تسلی نہیں سمجھتے بلکہ پچھلی حالت کی نسبت بھی ان کو شک ہے۔لالہ لاجپت رائے صاحب نے اس فقرہ میں خواہ کا لفظ استعمال کیا ہے اور خواہ کا لفظ ہمیشہ دو ہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جب دشمن مخالف ہو اور اس کے قول کی تردید کرنی ہو تو اس جگہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس بحث کو میں ابھی چھیڑنا نہیں چاہتا اور جب اپنے لوگوں کو مخاطب کر کے یہ لفظ استعمال کیا جائے اور کسی قول کی تردید نہیں بلکہ تصدیق مراد ہو تو اس جگہ اس لفظ کے معنے شک کے ہوتے ہیں اور لالہ لاجپت رائے صاحب نے اس فقرہ میں کھلی صورت میں اس لفظ کو استعمال کیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ان کے نزدیک یہ بات ثابت شدہ نہیں ہے کہ کسی پچھلے زمانہ میں ہندو لوگ قوانین قدرت کے استعمال کرنے والے اور سائنس کے موجد تھے اور یہ کہ وید تمام علوم کا سرچشمہ ہیں۔