انوارالعلوم (جلد 5) — Page 380
انوار العلوم جلد ۵ ٣٨٠ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب اس کی بات کسی پر محبت نہیں اور اگر وہ جھوٹا ہے تب بھی اس کی بات کسی کے خلاف دلیل نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ نمائندہ نہیں بلکہ دشمن ہے اور دشمن کا قول کسی پر حجت نہیں ہوا کرتا ہیں ان شرائط کا آدمی فرض کرنا جو پروفیسر صاحب نے پیش کیا ہے محال ہے اور ناممکن ہے اور جب ایسا آدمی ہو ہی نہیں سکتا تو پھر اس قسم کے آدمی کا وجود فرض کر کے اس کے قول کو حجبت قرار دینا ایک غلط راہ ہے کیونکہ جب بنیاد ہی مفقود ہے تو اس پر عمارت کیونکر کھڑی کی جا سکتی ہے۔عدالتی وکیل اور مذہبی نمائندہ میں فرق پروفیسر صاحب نے عدالتی مقدمات پر قیاس کرکے فرض کر لیا ہے کہ مذا ہب کی جنگ میں بھی ایسے آدمی کا وجود تمکن ہے حالانکہ مقدمات میں ویل خود فریق عقد نہیں ہوتا کہ ایک امیر شخص ہوتا ہے جو وکالت کسی اپنے یقین اور وثوق پر نہیں کرتا بلکہ روپیہ لیکر بطور مزدور کے کام کرتا ہے اور مذاہب کے وکیل ایسے نہیں ہوتے بلکہ کسی مذہب کے وکیل ہونے کے یہ معنے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ اس مذہب پر یقین رکھتا ہے اگر وہ یقین رکھتا ہے تو اس کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بعض مسائل کو غلط قرار دیتا ہے اور اگر وہ بعض مسائل کو غلط قرار دیتا ہے تو پھر وہ اس مذہب کا وکیل نہیں کہلا سکتا، ہاں یہ بیشک ہو سکتا ہے کہ ایک مباحثہ ہو اور اس میں ایک شخص کسی مذہب کی طرف سے وکیل ہو کر پیش ہو اور دوران بحث میں اس کو اپنے دعوئی کا بطلان ثابت ہو جائے اور وہ اقرار کرے کہ جس مذہب پر میں تھا وہ باطل تھا۔مگر یہاں کسی بحث کے بعد اقرار کر لینے کا سوال نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ یک شخص اپنے طور پر کتاب لکھنے لگا ہے اور اس میں لکھتا ہے کہ جس مذہب پر میں ہوں اس سے بعض مسائل کمزور ہیں۔پس جب یہ شخص پہلے سے ہی اس مذہب کی کمزوری کا یقین رکھتا تھا تو پھر اس کی طرف سے وکالت کرنے کے لئے کس طرح کھڑا ہو سکتا تھا اور ایسے شخص کوکون قلمند اس مذہب کا وکیل کہہ سکتا ہے۔دوسرا فرق مقدمات کے وکلاء اور مذہبی وکلاء کے درمیان یہ ہوتا ہے کہ مقدمات کے فریقی انسان ہوتے ہیں اور ان کی نسبت امکان ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول میں یا غلطی کر دیں اور یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ کچھ حصہ ان کے بیان کا غلط یا جھوٹ ہو اور کچھ حصہ درست اور سچا ہو اور یہ ممکن ہے کہ ایک وکیل پر دوران مقدمہ میں اپنے موکل کے بیان کے کسی حصہ کی کمزوری ثابت ہو اور وہ اس کا اقرار کرے لیکن جس تعلیم کی بنیاد اس پر ہو کہ وہ خدا تعالٰی کی طرف سے ہے اس کے کسی حصہ کے رد کر دینے