انوارالعلوم (جلد 5) — Page 20
ہے۔غرض اس سے تبلیغ کے کام میں بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔اسی سے قیاس کرلو کہ جب سے مکان چار پانچ سال کیلئے کرایہ پر لیا گیا ہے ، ہمارے کام میں جلد جلد ترقی ہو رہی ہے۔پہلے دو تین سال میں گیارہ شخص مسلمان ہوئے تھے اور اب سو سے بھی زیادہ ہیں۔مگر ایک سال کے بعد مکان خالی کرنا پڑیگا اور نیا انتظام کیا جائیگا۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یک تخت یہ ترقی ترک جائیگی بعض کہیں گے کہ اب جو مبلغ گئے ہیں وہ ٹھیک نہیں۔لیکن یہ اس مکان کے رتر و بدل کا نتیجہ ہوگا۔اس کے علاوہ مسجد کے نہ ہونے کا ایک اور بھی اثر ہے کہ جن لوگوں کو تبلیغ کی جاتی ہے۔ان میں سے بعض مسلمان ہونے کو تیار ہوتے ہیں۔مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا مکان بھی نہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی جماعت نہیں۔پھر وہ ضائع ہو جاتے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب وہ اپنے لوگوں سے علیحدہ ہوتے ہیں تو ان کو نئی سوسائٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر وہ ان کو سوسائٹی خیال نہیں کر سکتے۔جبکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ چند دن کے مہمان ہیں۔لیکن جب وہ مکان دیکھیں گے تو یقین کرینگے کہ یہ ایک سوسائٹی ہے۔ہماری جماعت کا جوش ہیں ان حالات کے ماتحت مسجد کا ہونا ضروری ہے۔اس بات کو خوب یاد رکھو کہ وہ جگہ کفر و ضلالت کا قلعہ ہے جس طرح یونان کے قلعہ کے فتح کرنے کے لئے ترکوں نے جوش دکھایا۔اس سے کہیں بڑھ کر لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کے قلعہ کے قیام کے لئے تم جوش و خروش دکھاؤ۔سو ہماری جماعت میں اس جوش کی خدا کے فضل سے کمی نہیں۔قادیان کے وہ احباب جنہوں نے ابھی اس میں کوئی حصہ نہیں دیا وہ بھی دیں۔یا جو اپنے چندے میں کچھ بڑھا سکتے ہیں بڑھا کر اس کسر کو پورا کر دینگے۔میں خیال کرتا ہوں کہ اگر یہی جوش جو یہاں کے احباب میں ہے باہر اسی شان سے قائم رہا تو یہ رقم بہت جلد پوری ہو جائیگی۔یہاں تو بچوں میں اتنا جوش ہے جس کی حد نہیں۔ایک بچہ نے جو کسی امیر کا لڑکا نہیں بلکہ ہاتھ سے محنت کرنے والے مزدور کا لڑکا ہے، اس نے ساڑھے تیرہ روپے مجھے دیئے اور بتایا کہ میرے والد جو پیسے مجھے خرچ کے لئے دیتے رہے ہیں وہ میں جمع کرتا رہا ہوں جس کی مجموعی رقم یہ ہے جو میں مسجد کے لئے دیتا ہوں۔خدا جانے اس کے دل میں کیا کیا جوشی ہوں گے اور اس روپیہ سے کیا کیا کام لینے چاہتا ہو گا۔لیکن اس نے اپنے اس مقصد پر جو تین چار سال سے اس کے ذہن میں تھا اور جس کے۔۔لئے وہ پیسہ پیسہ جمع کر رہا تھا چھری پھیر دی۔یہ ایک اعلیٰ درجہ کے جوش اور بہت کی بات ہے۔