انوارالعلوم (جلد 5) — Page 364
انوا را العلوم جلد ۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب ہندو موحد ہوا کرتے تھے۔اب سوال یہ ہے کہ موقد مهند دوستان مشرک کیونکر ہوگیا۔آریر صاحبان اس کا یہی جواب دینگے کہ آہستہ آہستہ لوگوں میں بدیاں پھیلتی گئیں اور سچی تعلیم کو وہ چھوڑتے چلے گئے۔جس کے دوسرے لفظوں میں یہی معنے ہونگے کہ گو توحید کی تعلیم اصلی تھی مگر اس کے قائم رکھنے والے لوگ ایسے قابل نہ تھے کہ لوگوں کو اس پر قائم رکھ سکتے اور لوگ شرک کی طرف متوجہ ہو گئے پس ایک وجہ کسی رانج عقیدہ یا خیال سے لوگوں کے منکر ہونے کی یہ ہوتی ہے کہ اس کے قائم رکھنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے لئے لائق لوگوں کی کمی ہو جاتی ہے یا وہ بالکل مٹ جاتے ہیں۔دوسری وجہ کسی عقیدہ یا خیال کے ترک کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ جومنکر ہوتے دوسری وجہ ہیں اس کے تائیدی دلائل سنے بغیر اس کے مخالفوں کی باتوں کو سنتے ہیں ! ان کی باتیں آہستہ آہستہ ان کے دل پر ایسا اثر کر جاتی ہیں کہ وہ مخالف خیالات ان کا اصل عقیدہ ہو جاتے ہیں اور جو ان کا آبائی عقیدہ تھا وہ ان کے نزدیک جدید خیالات کی طرح ہو جاتا ہے جس کو وہ تعصب کی وجہ سے نہ قبول کر سکتے ہیں اور نہ اس پر غور کر سکتے ہیں۔تیسری وجبه تیسری وجہ کسی عقیدہ کے ترک کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے اس کے مطابق عمل نہیں کر سکتا اور اپنی اس کمزوری کے اظہار سے بھی شرماتا ہے۔پس اپنے عیب کے چھپانے کے لئے وہ اس عقیدہ کا ہی انکار کر دیا ہے۔چوتھی وجہ چوتھی وجہ کسی عقیدہ کے انکار کی یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ انسان دوسروں کے رعب میں آجاتا ہے اور بغیر اپنے خیالات کی صحت یا ان کی غلطی پر غور کرنے کے محض رعب کی وجہ سے ان کے خلاف بیان کرنے لگ جاتا ہے کیونکہ وہ یہ خیال کر لیتا ہے کہ کیا ایسے عقلمند لوگ غلطی کر سکتے ہیں۔پانچوی وجہ پانچویں وجہ کسی عقیدہ کے انکار کی یہ بھی ہوتی ہے کہ کوئی نیا علم ایسا دریافت ہوتا ہے جو اس کے خلاف نظر آتا ہے اور انسان خیال کر لیتا ہے کہ میرا عقیدہ اس علم کے مخالف ہے حالانکہ وہ علم ابھی ناقص ہوتا ہے اور بسا اوقات آئندہ تحقیقات اس بات کو ثابت کبر دیتی ہیں کہ اس سے جو استدلال کیا گیا تھا وہ غلط تھا۔چنانچہ ایسی بیسیوں باتیں ہیں کہ جن کو یورپ نے بعض جدید علوم کی بناء پر ترک کر دیا لیکن مزید تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ان کا استدلال غلط تھا اور اس ادھورے علم سے جو نتیجہ انہوں نے نکالا تھا اس کے مکمل ہونے پر اس کی غلطی ان پر ثابت ہوگئی۔