انوارالعلوم (جلد 5) — Page 340
انوار العلوم جلد الله ۳۴۰ اسلام اور تربیت دم وہ مال اس کے پاس رہنا چاہنے کوئی شخص اس سے جبرا نہیں چھین سکتا۔سوائے اس کے کہ اس سے خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ حق زکوۃ وصول کرے یا اور دوسرے معین حقوق وصول کرے۔ہاں بنی نوع انسان کے اندر محبت و الفت کے بڑھانے اور تقویٰ کے درجوں کو بڑھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کی تحریک مؤمن کوئی ہے۔پس ہر ایک شخص جس قدر زیادہ تقویٰ میں بڑھا ہوا ہوتا ہے اسی قدر غرباء اور مساکین کی خبر گیری کرتا ہے۔مگر اس پر اسے مجبور نہں کیا جاتا کہ وہ اپنا گزارہ لے کر باقی سب مال غرباء میں تقسیم کر دے۔عورت کا ورثہ عورت کے ورثہ کے متعلق خواجہ صاحب نے اپنے پہلے مضمون میں لکھا تھا کہ اس کا ورثہ اس لئے آدھا ہے کہ وہ اپنے خاوند کی بھی وراث ہوتی ہے۔میں نے ان کو اس تحریف قرآنی پر آگاہ کیا تو انہوں نے اس غلطی کے قبول کرنے میں کوئی چارہ نہ دیکھا مگر پھر بھی اپنی بات رکھنے کے لئے انہوں نے اپنے تازہ مضمون میں اس طرح بات بنائی ہے کہ عورت اگر سو روپیہ کمائے گی تو مرد چار سو اس لئے جب وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے تو عورت کا حصہ دگنا ہو جائے گا۔مگر یہ بات کٹ حجتی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی کیونکہ عورت نے اپنے تمام رشتہ دار مردوں اور رشتہ دار عورتوں کے اموال سے سوائے شاذ حالت کے آدھا ورثہ پایا ہے اور مرد نے پورا پس کسی صورت میں بھی عورت کا حصہ مرد کے برابر نہیں ہو سکتا۔میں نے خواجہ صاحب کو للرجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ (البقرة : (۲۲۹) آیت کی طرف بھی توجہ دلائی تھی اور بتایا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد اور عورت میں شریعت نے من گل الوجوہ مساوات نہیں رکھی خواجہ صاحب اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر مرد کو اس کی طاقت کی وجہ سے عورت کی حفاظت کا حق دیا گیا ہے تو اس حق کا اسے غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے۔میں اس جواب پر حیران ہوں کہ اس کے لکھتے ہوئے خواجہ صاحب کو اس قدر بھی خیال نہ آیا کہ سوال کیا تھا اور میں جواب کیا دے رہا ہوں ظلم یا انصاف کا یہاں سوال نہ تھا۔میں نے تو یہ بتایا تھا کہ معاملات میں بعض ایسے حقوق مرد کو دیے گئے ہیں جو عورت کو نہیں دیے گئے اور اس کو انہوں نے تسلیم کر لیا ہے۔مرد خواہ انصاف سے ان حقوق کا استعمال کرے خواہ ظلم سے مساوات بہر حال نہ رہی۔شریعیت نے عورت کی اصلاح کا ایک طریق مارنا رکھا ہے نے لکھا تھا کہ روکو ناشزہ پائے اور اور ذرائع سے اس کی اصلاح نہ ہو تو اس کو مارے۔لیکن عورت کو یہ حق نہیں۔پس