انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 336

اسلام اور حریت و مساوات کوشش کی لیکن اب تک ناکامی کا منہ دیکھ رہے ہیں ہیں حق وہی ہے جو اسلام نے بیان کیا کہ شخص کو اس کی محنت کا پھل دے کر پھر اس پر ایسے لوگوں کی مد د مقرر کر دی جو کمزور ہیں اور ایک حصہ مدد کا فرض کر دیا اور دوسرا بطور نفل کے رکھا تاکہ مختلف مدارج رومانیہ کے آدمی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں اور فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَتِ لے (البقرۃ : ۱۴۹) کے حکم کی تعمیل کریں۔خواجہ صاحب جس مساوات کی طرف دنیا کو دعوت دیتے ہیں۔وہ عقلاً بھی نہایت مضر ہے۔کیونکہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو بہت سے لوگ مست ہو جائیں اور دنیا کی تمام ترقی ڈرک جائے۔مال کما کر بطور امانت رکھنا عجیب بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب ایک طرف تو مسادات پر زور دیتے ہیں اور دوسری طرف یہ قانون بھی بتاتے ہیں کہ جس نے مال کمایا ہے وہ اسی کے پاس امانت رہے۔امانت تو تب رکھی جاتی ہے جب امانت رکھنے والے کو اس مال کی ضرورت نہ رہے جب کہ دنیا میں بعض زیادہ مالدار اور بعض بالکل غریب نہ ہوں۔لیکن جب کہ یہ بات نہیں۔بلکہ دنیا کے لوگوں میں بہت بڑا فرق موجود ہے تو پھر امراء کے پاس مال امانت پڑا رہنے کا کیا مطلب ہوا ؟ اس کو ان لوگوں میں تقسیم کرنا چاہئے جو خواجہ صاحب کے نزدیک اس کے اہل ہیں۔خواجہ صاحب کی پیش کردہ آیت کا صحیح مطلب خواجہ صاحب اپنے دعوی کی تائید میں قرآن کریم کی آیت وَالَّذِينَ يَكْتِرُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبیلِ اللهِ " (التوبہ : ۳۴) سے یہ ستدلال کرتے ہیں کہ اس میں سے مال کی مساوی تقسیم کا فتویٰ نکلتا ہے۔حالانکہ اس سے یہ بات ہرگز نہیں نکلتی۔اول تو اس آیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس وقت جب کہ دین کے راستہ میں شکلات ہوتی ہیں دین کی اشاعت میں روپیہ صرف نہیں کرتے بلکہ روپیہ جوڑتے رہتے ہیں سزا کے مستحق ہیں۔مساوی تقسیم کا یہاں سوال ہی نہیں۔فی سبیل اللہ سے مراد قرآن کریم میں اشاعت دین و نصرت دین ہوتی ہے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ جب دین اور دنیا کا مقابلہ ہو جائے تو ہرشخص کا فرض ہے کہ اپنا مال اور اپنی جان اور اپنی عزت اور وطن اور دولت سب کچھ دین کے لئے قربان کردے اور