انوارالعلوم (جلد 5) — Page 13
انوار العلوم جلد ۵ ± ۱۳ شجاعت کے کام کرائیگی۔ایک دوسرا شخص ہے جسے مال سے محبت ہے وہ اس کے لئے غیرت دکھائے گا۔ایک اور شخص ہے جو تجارت سے دلچسپی رکھتا ہے جب وہ کسی کو تجارت میں اپنے سے بڑھتا دیکھیے گا تو وہ اس سے بڑھنے کے لئے نقصان گوارا کر کے آٹھ آنے کی چیز کو چار آنے پر فروخت کر دیگا تو غیرت ایک فطرتی بات ہے گو اس کے استعمال کے مقام علیحدہ علیحدہ ہیں اور ہر ایک مذہب اور ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک میں اس کے ظاہر ہونے کے جدا جدا مقائم ہوتے ہیں۔مثلاً نبعض ملک ننگ و ناموس کی پرواہ نہیں کرتے۔مثلاً یورپ میں اس کی کچھ چنداں پرواہ نہیں کی جاتی۔اگر کوئی ایسا واقعہ ہو تو عدالت میں چارہ جوئی کرنے پر عدالت چار سو یا پانسو روپیہ دلوا دیگی۔گویا اس ننگ و ناموس کی خرابی کا معاوضہ مل گیا۔مگر ہمارے ملک میں جان دینا اور لینا اس معاملہ میں لوگ ایک معمولی بات خیال کرتے ہیں۔تو یورپ کے لوگ تنگ ناموس کی استقدر قیمت نہیں لگاتے جتنی ایشیائی۔البتہ ملک پر وہ لوگ جان دیتے ہیں۔کیونکہ ان لوگوں کو ملک سے زیادہ لگاؤ ہے۔مگر ایک مسلم کے لئے ایک مذہبی آدمی کے لئے مذہب غیرت کی چیز ہے۔مسلمان کی غیرت اس کو جب غیرت آتی ہے تو مذہبی معاملہ میں غیرت آتی ہے اور اس کے ماتحت جو کام مذہب کا اس سے کرانا ہو۔وہ اس کو کریگا سوائے اس کام کے جس میں خدا کی طرف سے روک پیدا کر دی جائے۔اسی غیرت کے ماتحت بڑے بڑے کام ہوئے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں مسلیمہ کذاب نے جھوٹا نبوت کا دعوی کیا اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ بھی کیا تھا اور حضور کی زندگی میں نصف ملک کا مطالبہ کیا تھا۔اس وقت حضور کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ میں تو اس کو یہ بھی نہیں ڈونگا جب حضور کی وفات ہوئی تو آپ کی وفات سے اس نے فائدہ اُٹھانا چاہا۔اس کی مسلمانوں سے جنگ ہوئی۔بہت مسلمان مرے اور مسلمانوں کو فتح نہ ہوئی۔اس وقت سوال پیدا ہوا کہ کیا رنا چاہئے۔اس وقت کئی آراء ہوئیں۔لیکن غیرت سامنے آئی اور اس نے کہا کہ بیشک ہم کمزور ہیں اور تعداد میں بھی تھوڑے ہیں یہ سب کچھ ہے مگر میں نہیں رہتی اگر تم پیچھے ہٹ گئے۔وہ لوگ جو اپنے آپکو اسلام کیلئے بیچ چکے تھے اس جذبہ غیرت کے ماتحت انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو تم ہمیں ہاتھ پیر باندھ کر قلعہ کے اندر ڈال دو۔چنانچہ کتنے ہی آدمیوں کو اسی طرح قلعہ کے اندر ڈال دیا گیا۔جن پر بہت سے کفار جھپٹ پڑے اور ان میں سے کتنے ہی آدمی مر گئے اور باقیوں نے جوش میں ان تمام کندوں کو توڑ دیا اور مرتے مارتے قلعہ