انوارالعلوم (جلد 5) — Page 14
رالعلوم۔۱۴ قیام توحید کیلئے غیرت کے دروازے میں پہنچ گئے اور اُسے کھول دیا جس سے مسلمانوں کا لشکر قلعہ کے اندر گھس آیا اور مسلمہ ہارا گیا اور تھوڑی دیر میں مسلمانوں کو کامل فتح حاصل ہو گئی۔اب وہ کیا چیز تھی جس کی وجہ سے باوجود دشمن کے زیادہ اور قوی ہونے کے مسلمان کا میاب ہوئے۔وہ غیرت تھی جس کے ماتحت اتنا بڑا کام ہوا اور رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی مذہبی حکومت قائم ہو گئی۔غیرت کی مثال اس زمانہ میں بھی نہیں ایک نظیر ملتی ہے۔یونان اور ترکوں کی ایک فعہ جنگ ہوئی۔یونانیوں کا گمان تھا کہ ہمیں بیرونی ممالک کی مدد سے ترکوں کے مقابلہ میں فتح حاصل ہوگی۔یونانیوں کے پاس ایک قلعہ تھا جو ایک پہاڑی پر واقع تھا اور ایسے موقع پر تھا کہ وہاں سے اگر گولہ باری ہوتی تو تمام یونان کو جانے والے راستوں پر گولے پڑتے تھے۔یورپ کی وہ حکومتیں جنہوں نے یونان کو انگیخت کیا تھا، ان کا خیال تھا کہ چھ مہینہ تک پہ قلعہ فتح نہیں ہو سکتا اور اتنے عرصہ میں روس وغیرہ حکومتوں کی طرف سے یونانیوں کے لئے ملک پہنچ جائیگی اور پھر ترکوں کا مار لینا کچھ بھی مشکل نہ ہو گا۔ان لوگوں میں بھی مذہب کی ظاہری حالت کے لئے ایک غیرت تھی۔ترکوں کا ایک مشہور جرنیل (جس کا نام غالباً ابراہیم پاشا تھا ، ترکوں کی فوج کا افسر تھا۔اس نے حکم دیا کہ یونان کی طرف بڑھو جب لشکر بڑھا تو یونانیوں کی طرف سے اس شدت سے گولہ باری ہوئی کہ قدم اُٹھانا مشکل ہوگیا اور پہاڑی کی بلندی کی وجہ سے اس پر سیدھا چڑھنا مشکل تھا اور سپاہیوں نے درخواست کی کہ ہمیں بوٹ اُتارنے کی اجازت دی جائے مگر افسر نے اجازت نہ دی اور خود ان کے لئے نمونہ بن کر آگے بڑھا۔اس گولیوں کے مینہ کا مقابلہ کرنا آسان نہ تھا۔تھوڑی ہی دور چل کر گولی لگی اور جرنیل زخمی ہو کر گرا۔اور اس کے گرتے ہی سپاہی اس کو اُٹھانے کے لئے آگے بڑھے۔مگر اس نے انہیں کہا کہ تم کو خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ مجھے ہاتھ نہ لگاؤ اور یہیں پڑا رہنے دو۔اگر تم نے مجھے عزت کے ساتھ دفن کرتا ہے تو اس کا ایک ہی نظام ہے اور وہ اس قلعہ کی چھت ہے۔پس یا تو مجھے اس جگہ دفن کردو ورنہ یہیں پڑارہنے دو کہ چیلیں اور کتے میرا گوشت نوچ کر کھا جاویں۔چونکہ اس افسر کا تعلق فوج سے بہت اعلیٰ درجہ کا تھا۔اس کی یہ بات ایک چنگاری بن گئی۔جس نے سپاہ کی غیرت کو بارود کی طرح آگ لگا دی۔اور اب ان کے سامنے سوائے اس قلعہ کی فتح کے اور کوئی مقصد نہ رہا۔اور وہ لوگ ایک منٹ میں کچھ کے کچھ بین گئے اور چیخیں مارتے ہوئے اسی آگ کی بارش میں قلعہ کی طرف بڑھے اور اس طرح قلعہ کے اوپر چڑھ گئے۔لکھا ہے کہ ان کے ہاتھوں کے پپوٹے اور ناخن تمام پتھروں سے رگڑ کر اڑ گئے۔مگر اس