انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 287

انوار الع ۲۸۷ اسلام اور حریت و مساوات جواب : بحیثیت ایک شہری ہونے کے اور امام ہونے کے میرا فرض ہے کہ میں لوگوں کو ظلموں کی خرابی سے متنبہ کروں۔مگر میرا یہ کام نہیں کہ ہر ایک واقعہ جو دنیا میں ہو اس کے متعلق تحقیقات کروں کہ آیا وہ ظالمانہ تھا یا منصفانہ۔یہ کام کوئی انسان نہیں کر سکتا۔یہ صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے۔انگریزوں کی غلطیاں ہم ان سے چھپاتے نہیں۔بلکہ ان پر ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ہم آئینی طور پر ہرا ایک فلم کا مقابلہ کرتے ہیں ظلم اخلاق کی خرابی کا نتیجہ ہوتا ہے۔اور ہم اخلاق کی درستی کی کوشش کرتے ہیں۔سوال ۱۷ - کیا ایک ظالم و جابر حکومت کو اس کے تشدد آمیز افعال سے آگاہ کرنا اور اسکے 16 دل میں اس کا احساس پیدا کرا نا آپ کا فرض منصبی نہیں ہے ؟ اس کا جواب نمبر ۱۶ میں آچکا ہے۔فرائض کی ادائیگی سوال ۱۵ : اگر یسب آپ کے فرائض ہیں تو بتائیے کہ آپ نے اب تک ان فرائض کی ادائیگی کیوں نہیں کی ؟ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا ؟ کہ آپ لوگ حکومت سے ڈرتے اور اپنے اصل مشن کو بالکل بھولے ہوئے ہیں۔شاید آپ کی طرف سے یہ کہا جاوے کہ ہم نے خطوط کے ذریعہ حکومت کو آنے والے واقعات سے آگاہ کر دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے آپ کے مشورہ پر عمل بھی کیا ؟ اگر نہیں تو کیا اس کے دل میں احساس پیدا کرانے کے لئے آپ نے کوئی عملی تدابیر بھی اختیار کیں۔جناب عالی ! یاد رکھنے کہ سال بھر میں دو ایک کا مسلمان بنا لینا ہی صرف اشاعت اسلام نہیں ہے بلکہ حق و صداقت کے لئے آئینی جنگ کرنا اصل اشاعت اسلام ہے محض گورنمنٹ کو خوش کرنا ، اپنے کو سرکار کا وفادار ظاہر کرنا، دوسروں پر غیر وفاداری کے اتہام لگانا ، ہوم رول کی طرف سے استغناء ظاہر کرنا، لیکن کونسلوں میں ایک نشست حاصل کرنے کے لئے جا و بیجا منت سماجت کرنا یہ تمام باتیں مسیح موعود کی جماعت کے شایان نہیں ہیں۔جواب :۔میں اپنے فرائض سے آگاہ ہوں۔ان کی ادائیگی کی حتی الوسع کوشش کرتا ہوں۔میں صرف خدا سے ڈرتا ہوں۔یا اس سے جس سے ڈرنے کا خدا نے حکم دیا ہے۔حکومت کے اندر احساس پیدا کرنے کے لئے میں وہی کوشش کرتا ہوں۔جو خدا کے نبی اور ان کے خلفاء ہمیشہ سے کرتے آتے ہیں۔کونسل کی نشست کی نہ میں نے کبھی خواہش کی ہے نہ مجھے فرصت ہے کہ میں کونسل میں جاکر