انوارالعلوم (جلد 5) — Page 270
ترک موالات اور احکام اسلام مسلمان کا دل بھی اس پر غمگین نہ ہوا اور وہ اسی طرح اپنے عیش و طرب میں مشغول رہے جس طرح کہ پہلے مشغول تھے ان کی تیوروں پر بل نہ پڑا اور ان کی آنکھوں نے افسردگی کی جھلک نہ دکھلائی انہوں نے اپنے کندھے ہلا کر لا پرواہی سے کہہ دیا کہ اسلام اگر ہماری ہوا و ہوس کے راستہ میں روک ہے تو اسے تباہ ہونے دو ہمارے عیش میں خلل نہیں آنا چاہئے لیکن جب خدا تعالیٰ نے ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے وہ چیز جو اسلام کے مقابلہ میں ایک پشہ کے برابر بھی قیمت نہ رکھتی تھی اور جس سے مسلمان کھلونے کی طرح کھیل رہے تھے ان کے ہاتھوں سے چھین لی اور اس کو توڑ کر پھینک دیا تو وہ سب کیساں رونے اور چلانے لگے اور ماتم کرنے لگے اور آہ و فغاں سے انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔کیا یہ بات ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں ؟ کیا ابھی انہیں کسی اور ثبوت کی ضرورت ہے ؟ جس سے ان کو معلوم ہو کہ وہ خدا کے نہیں بلکہ اپنے نفوس کے بند سے ہو رہے ہیں اس وقت اسلام کی محبت کہاں گئی تھی جب ہزاروں مسلمان کہلانے والے مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ ظلم کو گالیاں دیتے ہوئے اسلام کے دشمنوں اور ایمان کی عمارت پر گولہ باری کرنے والوں کے شکر میں جماعت در جماعت شامل ہو رہے تھے اور اعلام محمد صل اللہ علیہ وسلم کے بازوؤں کو قوت دے رہے تھے اس وقت ان کی زبانوں کو کیوں جنبش نہ ہوئی اس وقت ان کے ہاتھوں میں کیوں حرکت پیدا نہ ہوئی اور اس وقت کیوں ان کے خونوں نے جوش نہ مارا ؟ کیا خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قیمت اتنی بھی نہیں جتنی کہ عراق یا شام کی ؟ ترکوں پر یورپ نے ظلم گئے تو ان کے دلوں کو صدمہ پہنچا لیکن محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم پر قمر توڑے گئے تو کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جس کی محبت کے دعوی میں اس قدر جوش دکھایا جارہا ہے اس کا یہ قول ان کو یاد نہ رہا کہ ایک نفس کو ہدایت ہو جائے تو وہ جانوروں کے ریوڑوں سے زیادہ با برکت ہے مگر یہاں تو کسی نفس کو ہدایت دینا تو الگ رہا اس قدر تڑپ بھی نہ پیدا ہوئی کہ جو اپنے تھے انہی کو گمراہ ہونے سے بچایا جائے۔ایک دو ظاہری علاقوں کے جانے پر اس قدر صدمہ ہوا لیکن لاکھوں روحانی زمینیں ہاتھ سے نکل گئیں اور کوئی تکلیف نہ ہوئی۔اسے کاش ! اب بھی آنکھ کھلتی اور اب بھی سمجھتے کہ یہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں بلکہ دنیا کی ہوس ہے۔آج جن بچوں کو کالجوں سے ہٹایا جا رہا ہے اور ان کی خیر خواہی کا راگ گایا جارہا ہے اس سے پہلے یہ بچے کیوں بھولے ہوئے تھے۔کالجوں سے ہٹانے کے لئے تو سب سے پہلے ان محرکان ترک موالات کو وہ یاد آئے اور ان کی محبت ان کو کالجوں کے ہالوں میں کھینچ کر لائی۔لیکن جب علی الاعلان وہ خدا کے