انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 269

انوار المعلوم جلد ۵ ۲۶۹ ترک موالات اور احکام اسلام کیا جاتا بلکہ اس تحریک میں حصہ لینے والوں میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اسلام کے خالص مذہبی احکام سے بالکل لا پروا ہیں اور ان کا اس قدر بھی خیال نہیں کرتے جتنا کہ ایک اپنے دور کے شناسا کی بات کا۔حالانکہ اصل چیز تو اسلام ہے ظاہری حکومت یا طاقت تو صرف سولت کار کے لئے ہے جب اسلام میں حکومت نہ تھی تب اسلام کی شان میں کوئی فرق نہ تھا اور جب حکومت مل گئی تو اسلام کے حسن میں کوئی زیادتی نہیں ہو گئی۔اسلام تو اپنی ذات میں حسین ہے اور مومن اپنے وجود میں مبارک۔نہ اسلام ظاہری شان و شوکت کا محتاج ہوتا ہے نہ مومن ظاہری قوت و طاقت کا بھوگا۔اسلام کا حسن اس کی خوبیاں ہیں اور مومن کی قوت اس کا دل۔پس دنیا کی حکومت اسلام اور مسلم کے لئے کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔دنیا کی نعمتیں تو اس کی غلام ہوتی ہیں جب وہ ان کو حکم دیتا ہے وہ اس کے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں اور اسی وقت تک اس سے دُور رہتی ہیں جب تک صداقت نے اپنا ذاتی جو ہر اور مومن نے اپنی ذاتی قوت ایمانیہ لوگوں پر ظاہر کرنی ہوتی ہے۔پس اگر اسلام اور مسلم موجود ہو تو ان چیزوں کی کچھ فکر نہیں ہوسکتی اگر فکر کی بات ہے تو یہ کہ اسلام نہ رہے صداقت مٹ جاوے اور ایمان سلب ہو جاوے۔وہ نور سامنے سے ہٹ جاوے جو یار کا چہرہ دکھاتا تھا مومن دنیا پر افسوس کرتا ہے وہ دین پر افسوس نہیں کرتا اس لئے ایک کلمہ خیبر کا بھولنا نقارہ فتح کے بند ہونے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا اور وصال یار کا ایک دروازہ بند ہونا دنیا کی سب کامیابیوں کے مبدل بہ ناکامی ہونے سے زیادہ موجب گھبراہٹ ہوتا ہے اور اگر ایمان کا مٹنا اور اسلام کا ضعیف ہو جانا انسان پر گراں نہ گزرے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس شخص کے دل میں دُنیا ہی دُنیا کی محبت سما گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کا دامن چھوٹ گیا ہے اور یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے۔اسلام کی ایک ایک اینٹ ان کی آنکھوں کے سامنے اکھاڑی گئی مگر ان کے دل میں احساس نہ پیدا ہوا۔مسلمان کہلانے والے لوگوں نے ایک ایک کر کے ارکان اسلام کو خیر باد کہا مگر ان کا دل دردمند نہ ہوا۔عقائد صحیحہ کو ایک ایک کر کے چھوڑا گیا بلکہ ان کی پھبتیاں اُڑا دی گئیں مگر انہوں نے بجائے تکلیف محسوس کرنے کے ! ن لطیفہ سنجیوں میں لطف محسوس کیا۔غرض کوئی صورت دین کی تخریب کی نہ تھی جو خود مسلمانوں نے نہیں کی اور ہنستے کھیلتے ہوئے نہیں کی خوش چہروں اور مسکراتے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ نہیں کی یہاں تک کہ اسلام ایک مردہ کی طرح ہو گیا جس میں رُوح باقی نہ تھی یا ایک گرے ہوئے مکان کی طرح ہو گیا جس کے طلبہ کو بھی لوگ اُٹھا کر لے گئے اور حاجت مندوں نے اسکی نیوؤں کی اینٹیں بھی اُکھاڑ کر استعمال کرلیں اور وحشی جانوروں نے اس کی نیبوں کے اندر بسیرا بنایا۔نہیں نہیں وہ ایک مُردار کی طرح ہو گیا جس کو اپنوں نے اپنے گھر سے نکال کر پھینک دیا اور غیروں نے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنی ناکوں پر رومال رکھ لیا مگر ایک