انوارالعلوم (جلد 5) — Page 259
انوار العلوم جلد ۲۵۹ ترک موالات اور احکام اسلام اس کو اقسام میں منقسم کیا ہے اور اسی نے مختلف عمال تمدن کے اعمال کے مدارج قائم کئے ہیں اور ان کے حقوق مقرر کئے ہیں۔ایسے مذہب کی نسبت ہر گز اُمید نہیں کی جاسکتی کہ وہ رعایا اور بادشاہ کے حقوق پر توجہ نہ ڈالے گا۔اور واقعہ یہی ہے کہ اس نے اس تعلق کو نہایت مضبوط چٹان پر قائم کیا ہے۔قرآن کریم ولاۃ الامر کے احکام کی اتباع کا پُر زور الفاظ میں حکم دیتا ہے اور اطِيعُوا الله و أطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمُ (النساء : 4 ) کہہ کرحکومتوں کے حقوق کو قائم کرتا ہے۔۶۰ بعض مسلمان غلطی كيا أولي الأمر منگم سے مراد صرف مسلمان حکام ہیں ؟ سے اس آیت کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکم صرف مسلمان حکام کے حق میں ہے کہ ان کی اطاعت کی جاوے لیکن یہ بات غلط ہے اور قرآن کریم کے اصول کے خلاف ہے بے شک اس جگہ لفظ مِنكُم" کا پایا جاتا ہے مگر مکہ کے معنے یہ نہیں ہیں کہ جو تمہارے ہم مذہب ہوں بلکہ اس کے یہی معنی ہیں کہ جو تم میں سے بطور حاکم مقرر ہوں۔مِن ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کفار کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ الم يَأْتِكُم رُسُلٌ منكم اس آیت میں منگھ کے معنی اگر ہم مذہب کریں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نعوذ باللہ من ذالک رسول کفار کے ہم مذہب تھے۔پس ضروری نہیں کہ منگھ کے معنی ہم مذہب کے ہوں۔یہ اور معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس جگہ اس کے یہی معنی ہیں کہ وہ حاکم جو تمہارے ملک کے ہوں یعنی یہ نہیں کہ جو حاکم ہو اس کی اطاعت کرو بلکہ ان کی اطاعت کرو جو تمہارا حاکم ہو۔اور فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُول کے یہ معنی نہیں کہ قرآن و حدیث کی رو سے فیصلہ کر لو بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگر حکام کے ساتھ تنازع ہو جائے تو خدا اور اس کے رسول کے احکام کی طرف اس کو لوٹا دو اور وہ حکم یہی ہے کہ انسان حکومت وقت کو اس کی غلطی پر آگاہ کر دے اگر وہ نہ مانے تو پھر اللہ تعالیٰ پر معاملہ کو چھوڑ دے وہ خود فیصلہ کرے گا اور ظالم کو اس کے کردار کی منرا دے گا۔قرآن کریم میں حضرت یوسف کا غیر مذہب کے اولی الامر کا ثبوت قرآن کریم سے واقعہ جس طرح بیان ہوا ہے وہ بھی دلالت کرتا ہے کہ حاکم خواہ کسی مذہب کا ہو اس کی اطاعت ضروری ہے بلکہ اگر اس کے احکام ایسے شرعی احکام کے مخالف بھی پڑ جاویں جن کا بجا لانا حکومت کے ذمہ ہوتا ہے تب بھی اس کی اطاعت کرے۔چنانچہ حضرت یوسف کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انکے بھائی انکے پاس چھوٹے بھائی کو عاد الانعام : ١٣١)