انوارالعلوم (جلد 5) — Page 260
انوار العلوم جلد ۵ ۲۶۰ ترک موالات اور احکام اسلام لائے تو وہ ان کو دوہاں کے بادشاہ کے قوانین کی رو سے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے اس لئے خدا نے ان کے لئے خود ایک تدبیر کردی چنانچہ فرماتا ہے كذلك كدْنَا لِيُوْسُفَ، مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَادُ في دِينِ المَلِكِ الا ان شاء الله (یوسف : یعنی اسی طرح ہم نے تدبیر کی کیونکہ وہ بادشاہ کے قوانین کے مطابق اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتے تھے ہاں مگر اس صورت میں کہ خدا تعالیٰ ایسا ہی چاہتا ؛ فتح البیان میں ہے کہ بادشاہ مصر کا قانون اور تھا اور اس کی شریعت اور تھی۔پس خدا تعالیٰ نے الہاما یوسف کے بھائیوں کے منہ سے نکلوا دیا کہ جو چور ثابت ہو اسی کو غلام بنا کر رکھ لینا اسی طرح اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ - (یوسف (۵۶) کے نیچے لکھا ہے کہ وَقَدِ اسْتُدلَ بِهَذِهِ الْآيَةِ عَلَى أَنَّهُ يَجُوزُ نَوَلِي الْأَعْمَالِ مِنْ جِهَةِ السلطانِ الْجَاثِرِيلِ الكَافِرِ لِمَنْ وَثْقَ مِنْ نَفْسِهِ بِالْقِیام بالحق یعنی اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ ظالم بلکہ کافر بادشاہ کی طرف سے عہدوں کا قبول کرنا اس شخص کے لئے جائز ہے جو اپنی جان پر اعتبار رکھتا ہے کہ وہ حق کو قائم رکھ سکے گا نہ یاد رکھنا چاہئے کہ حق کے قیام سے یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی شریعت کو چلا سکے۔کیوں کہ جیسا کہ حضرت یوسف کے بھائی کے معاملہ سے ظاہر ہے کافر کی ملازمت کے لئے یہ شرط نہیں کہ مین اپنا ذاتی خیال چلا سکے ہیں حق کی حفاظت سے یہی مراد ہے کہ علم کی باتوں میں ساتھ شامل نہ ہو جائے۔پس حضرت یوسف کے معاملہ سے بھی ظاہر ہے کہ خواہ گورنمنٹ کا فر ہی کیوں نہ ہو اس کی وفاداری ضروری ہے۔حکومت کی اطاعت کا حکم احادیث کی رو سے جب ہم رسول کریم صل اللہ علہ سلم کے کلام کو دیکھتے ہیں تو وہاں بھی حکومت کی اطاعت کا خاص حکم پاتے ہیں آپ فرماتے ہیں۔عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَاعَةُ فِي عُسْرِكَ وَيُيْرِكَ وَمَنْشَطَكَ وَمَكْرَهكَ وَاتْرَةٍ عَلَيْكَ (مسلم كتاب الامارة باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية وتحريبها في المصيبة یعنی تم پر واجب ہے حکم ماننا اور اطاعت کرنی تنگی میں اور کشائش میں اور خوشی میں اور ناراضگی میں اور اس وقت بھی جب تمہارے حقوق تلف کئے جاتے ہوں ؟ اسی طرح روایت کیا جاتا ہے کہ آپ سے صحابہ نے دریافت کیا کہ يَا نَبِيَّ اللَّهِ الأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أَمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَنَا فَمَا تَأْمُرُنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَالَةَ فَا عَرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ فَعَذَ بَهُ الْأَشْعَتْ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ اِسْمَعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِلُوا وَعَليْكُمْ مَا حملتف (مسلم كتاب الامارة باب في على تفسير فتح البيان ریم مطبوعہ مصر ۱۳۰۱ھ