انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 91

انوار العلوم جلد ۵ 91 جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں اور خیال کریں کہ چونکہ انکے نام کے ساتھ امیر یا سیکرٹری یا محاسب یا امین یا اور کوئی نام لگ گیا ہے اس لئے وہ اور بھی گر کر رہیں۔تاکہ دوسرے لوگوں کو یہ خیال نہ پیدا ہو کہ اس کی وجہ سے ان میں تکبیر پیدا ہو گیا ہے۔دیکھو ! اسلامی مساوات کی بھی کیا شان ہے۔ایک طرف تو اسلامی مساوات کی شان ایک شخص کو بڑھا کر اس درجہ پر پہنچا دیا کہ ہر ایک کو جو اس کے ماتحت کیا گیا ہے اس کے احکام کی اطاعت کرنی چاہئے اور اگر کوئی نہیں کرتا تو خداتعالی کے نزدیک گنہگار ہے اور دوسری طرف معاملات میں اس کو اتنا نیچے لاتا ہے کہ کہتا ہے اسے غریب سے غریب انسان کی بھی عزت اور تو شیر کرنی ہوگی۔اور اس کا قدرتی در جرجس سے وہ عام طور پر فائدہ اُٹھاتا ہے۔مثلاً یہ کہ وہ امیر ہے اور اس وجہ سے اس کی خاص پوزیشن ہے۔اس کو بھی چھڑا دیتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ایک شخص ان کے پاس آتا ہے اور آخر کہتا ہے کہ اسے عمر امیری بڑی ذلت کی گئی۔انھوں نے پوچھا کس نے کی۔اس نے کہا عمرو بن عاص کے بیٹے نے۔انھوں نے پوچھا کس طرح۔اس نے کہا گھوڑ دوڑ ہو رہی تھی۔میرا گھوڑا اس سے آگے بڑھنے لگا تھا کہ اس نے مجھے کوڑا مار کر کہا کہ میں شریف ہوں کیا تو شریف سے بھی بڑھنا چاہتا ہے۔حضرت عمر نے کہا عمرو بن عاص کو بلاؤ۔جب وہ آئے تو پوچھا کیا تمہارے بیٹے نے اس شخص کو کوڑا مارا ہے۔انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں تحقیقات کی جائے۔تحقیقات کی گئی تو بات صحیح نکلی۔اس پر حضرت عمریضہ نے عمرو بن عاص کے بیٹے کو یہ سزا دی کہ جس کو اس نے کوڑا مارا تھا اسی کے ہاتھ میں کوڑا دیا اور کہا کہ مار شریف ابن شریف کو جب وہ مار چکا تو حضرت عمر نے کہا کیا خدا نے جن کو آزاد کیا ہے تم ان کو غلام بناتے ہو یہ یہ ہے اسلامی مساوات۔یک جہتی کی بنیاد کیا ہے ؟ پس ہماری جماعت میں جو لوگ کام کرنیوالے ہیں دوسروں پر فرض ہے کہ وہ جو حکم دیں اس کے ماتحت کام کریں۔لیکن علم حکم دینے والوں کا یہ فرض ہے کہ کسی پر ایسا بوجھ نہ رکھیں جسے وہ اُٹھا نہیں سکتا اور ماتحت کام کرنے والوں کا فرض ہے کہ جن کو کوئی عہدہ دیا گیا ہو ان کی پوری پوری عزت اور توقیر کریں کیونکہ جن کاموں پر انہیں مقرر کیا گیا ہے وہ عزت چاہتے ہیں۔پھر افسروں کا فرض ہے کہ جو لوگ ان کے ماتحت کئے گئے ہیں ان کی تواضع کریں کہ یہ ان کے کام کے سر انجام پانے کے لئے ضروری ہے پیس