انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 77

انوار العلوم جلده ८८ صداقت اسلام دکھلائے اور وہ اس طرح کہ طرفین کچھ کچھ مریض لے لیں اور ان کی صحت کے لئے دعا کریں میں کے زیادہ مریض صحت یاب ہو جائیں اس کے مذہب کو سچا سمجھا جائے ۔ اس پر بڑے بڑے انگریزی اخباروں نے مضامین لکھے کہ ہمارے پادری جو اتنی بڑی بڑی تنخواہیں لیتے بڑے انگریزی اخباروں نے مضامین کہ ہمارے پادری جوانی بڑی بری لیتے ہیں وہ کیوں مقابلہ میں نہیں آتے۔ یہی وقت عیسائیت کو سچا ثابت کرنے کا ہے۔ لیکن کوئی مقابلہ پر نہ آیا ۔ یہ فیصلہ کا نہایت آسان اور عمدہ طریق تھا۔ تھا مگر کسی نے قبول نہ کیا اور یہ ثبوت ثبوت ہے اس امر کا کہ دیگر مذاہب کے لوگ محسوس کرتے تھے کہ اپنی صداقت کا ثبوت اسلام ہی دے سکتا ہے ہمارے مذہب کچھ نہیں کر سکتے ۔ حضرت مرزا صاحب کے علمی کارنامے پھر حضرت مرزا صاحب نے علمی طور پر ایسے ایسے مضمون لکھے کہ مخالفین بھی ان کے سب سے زبردست ہونے کا اقرار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چنانچہ لاہور میں ایک بہت بڑا جلسہ ہوا جس کا نام مہوتسو رکھا گیا۔ اس میں یہ شرط رکھی گئی کہ ہر ایک مذہب کے قائمقام اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں اور کسی دوسرے مذہب پر کوئی حملہ نہ کریں ۔ حضرت مرزا صاحب نے اس کے لئے اسلام پر مضمون لکھا اور قبل از وقت خبر دے دی اور اشتہار چھاپ دیا کہ مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ اس جلسہ میں تیرا مضمون سب سے اعلیٰ رہے گا ۔ چنانچہ جب آپ کا مضمون اس جلسہ میں پڑھا گیا اور اس کے پڑھنے کا وقت پورا ہو گیا تو سب حاضرین جن میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل تھے بول اُٹھے کہ اور وقت دیا جائے اور ایک شخص نے اپنا مضمون پڑھنے کا وقت اس کے لئے دے دیا۔ لیکن جب پھر بھی وہ مضمون ختم نہ ہوا تو لوگوں نے کہا کہ اسی کو پڑھتے جاؤ۔ لیکن پھر بھی وہ ختم نہ ہوا تو لوگوں نے کیا جلسہ میں ایک دن اور بڑھا دیا جائے ۔ چنانچہ ایک دن بڑھایا گیا اور اس میں وہ مضمون سنایا گیا ۔ اور لوگوں نے علی الاعلان کہہ دیا کہ خواہ ہم ان باتوں کو مانیں یا نہ مانیں لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ مضمون باقی سب مضامین سے بالا رہا اور سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اس نے اس کے متعلق ایک مضمون بھی لکھا۔ حضرت مرزا صاحب کے متعلق ایک مخالف اخبار کی شہادت العرض عملی طور پر حضرت مرزا صاحب نے اسلام کی صداقت میں وہ کام کیا کہ جو اس زمانہ میں کوئی نہ کر سکا ۔ اور آپ کے مخالفین تک نے اس کو تسلیم کر لیا چنانچہ آپکی وفات پر اس شہر کے اخبار وکیل نے جو ہمارے سلسلہ کا نہیں ہے ایک زبردست آرٹیکل لکھا