انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 72

انوار العلوم جلد ۵ صداقت اسلام اشتہارات میں ان میدانوں کی ہو بہو تصویر کھینچ دی جہاں بڑی بڑی خطر ناک لڑائیاں ہوئیں اس پیشگوئی کا ایک شعر یہ ہے ۔ کا شعریات ہے یار رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمن صبح کر دے گی انہیں مثل درختان چنار له چنانچہ فرانس کی وہ جنگ عظیم جس میں جرمنی کو پسپا ہونا پڑا اس کی جائے وقوع وہ تھی جہاں کثرت سے چنار کے درخت تھے ۔ ادھر تو خون کی ندیاں بہ رہی تھیں اور ادھر چنار کے سُرخ پتے جمے ہوئے خون کی مانند تھے جو اس نقشہ کو اور زیادہ بھیانک بنا رہے تھے ۔ غرض اس نے قبل از وقت بتایا کہ ایک عظیم الشان جنگ ہوگی اور اس میں زار کی حالت خطرناک ہوگی چنانچہ اس کی وفات کے بعد ہم نے دیکھا کہ لڑائی ہوئی اور اس میں سب سے خطرناک اور عبرت انگیز زار روس کی حالت ہوئی ۔ یورپ کے اور بادشاہ بھی اپنے ملک میں اختیارات رکھتے تھے لیکن زار ان سب سے بڑا با اختیار بادشاہ تھا۔ چنانچہ جن الفاظ میں وہ دستخط کیا کرتا تھا ان کے یہ معنی تھے کہ خدا کا نائب ۔ تو حضرت مرزا صاحب کو بتایا گیا کہ ایک بہت بڑی جنگ ہوگی اور اس میں زار روس پر بہت بڑی مصیبت آئے گی ۔ اور وہ مصیبت کوئی ایسی نہیں ہوگی جس سے وہ ایسی نہیں ہوئی فوراً مر جائے گا بلکہ اس کی حالت نہایت دردناک ہوگی اور نہایت دردناک حالت سے گذر کر مرے گا اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح ہوا یا نہیں ؟ زار روس پوری شان و شوکت کے ساتھ حکمران ہے کہ ایک علاقہ سے بغاوت کی اسے خبر ملی وہ اس طرف روانہ ہوتا ہے اور فوج کے کمانڈر کو لکھتا ہے کہ باغیوں کو سخت سزا دور میں بھی آتا ہوں ۔ لیکن ابھی وہ چند ہی سٹیشن گزرتا ہے کہ اسے تار کے ذریعہ خبر ملتی ہے کہ حالت نازک ہو گئی ہے ۔ وہ کمانڈر کو لکھتا ہے کہ فلاں کو انتظام کی باگ دے دو۔ پھر چند سٹیشن اور آگے جاتا ہے کہ خبر ملتی ہے کہ حالت اور بھی خراب ہو گئی ہے اس پر لکھتا ہے کہ نرگی اختیار کرو۔ پھر ٹیشن پر ہی ہے کہ کچھ لوگ آتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ تم تمام اختیارات سے دستبردار ہو جاؤ۔ اس کے بعد اس کی جو حالت ہوئی وہ آپ لوگوں نے اخباروں میں پڑھی ہی ہو گی ۔ اس سے بڑھکر اس کی اور کیا حالت زار ہو سکتی تھی کہ اس کی لڑکیوں کے ساتھ اس کی آنکھوں کے سامنے شرمناک سلوک کیا گیا ۔ پھر اس کو ہلاک کر کے اس کی حالت زار کو انتہاء تک پہنچا دیا جاتا ہے ۔ یہ واقعات روز روشن کی طرح کے تذکرہ صفحہ ۵۳۹ ایڈیشن چہارم