انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 56

انوار العلوم جلد ۵ ۵۶ صداقت اسلام اس میں بھی ضرور کوئی نہ کوئی خوبی ہوگی ۔ آسٹریلیا کے لوگوں کا مذہب یا امریکہ کے بعض علاقوں کے لوگوں کے مذہب کو بہت ابتدائی سمجھا جاتا ہے ان میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خو بیاں ہیں۔ مثلاً یہ کہ کسی سے بدی نہ کرو ، شراب نہ پیٹو ، بھائیوں سے محبت کرو، مخلوق سے نرمی کے ساتھ پیش آؤ، صدقہ دو۔ پس جب ان مذاہب میں بھی ایسی تعلیم پائی جاتی ہے تو جن مذاہب کو متمدن لوگ مانتے ہیں ان کے متعلق یہ کہنا کہ ان میں کوئی خوبی نہیں اس سے بڑھ کر اور کیا نادانی ہو سکتی ہے ۔ ہے۔ پیس کسی مذہب کی صداقت پر غور کرنے سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہتے کہ ہر ایک مذہب میں کچھ نہ کچھ خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ ہاں دیکھنا یہ چاہتے کہ سب سے زیادہ خو بیاں کون سے مذہب میں پائی جاتی ہیں۔ بعض مذاہب والے کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں لکھا ہے کہ کسی پر ظلم نہ کرو۔ اس لئے ہمارا مذہب سچا ہے ۔ ہم کہتے ہیں کوئی ایسا مذہب تو دکھاؤ جس نے کہا ہو کہ ظلم کرو۔ اسی طرح بعض مذاہب والے کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں لکھا ہے لوگوں سے محبت کرو۔ ہم کہتے ہیں یہ خوبی ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ کون سا مذہب ہے جس میں لکھا ہے کہ لوگوں سے عداوت کرو۔ اگر کوئی نہیں تو پھر کس طرح مان لیں کہ صرف تمہارا ہی مذہب سچا ہے ۔ پھر کوئی کہے کہ ہمارے مذہب میں لکھا ہے کہ صدقہ کرو اس سے ثابت ہوا کہ ہمارا مذہب سچا ہے ۔ ہم کہیں گے کہ وہ کون سا مذہب ہے جو کہتا ہے کہ کبھی صدقہ نہ کرو۔ سارے کے سارے مذاہب ایسے ہیں جو ہی تعلیم دیتے ہیں پھر صرف تمہارے مذہب کو کیونکر سچا مان لیا جائے ۔ کسی مذہب کی سچائی کس طرح ثابت ہو سکتی ہے ؟ کیا اور اس کے سچا ہونے مذہب نیچا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس میں چند اخلاقی باتیں دکھا دی جائیں کیونکہ اس لحاظ سے تو تمام کے تمام مذاہب قریباً یکساں ہیں۔ پس اگر کسی مذہب کی سچائی ثابت ہوسکتی ہے تو اسی طرح کہ اس میں ایسی تعلیم دی گئی ہو جس سے خدا تعالیٰ تک انسان پہنچ سکتا ہو اور خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہو اور یہ تعلیم اپنی تفصیلات میں بھی صحیح اور درست ہو۔ یوں تو بعض مذاہب ایسے ہیں کہ وہ اصول کے رنگ میں اچھی تعلیم کے ساتھ متفق ہیں لیکن ان کی فروعات اور تفصیلات میں جا کر بڑا فرق پڑ جاتا ہے اور ان کی تعلیم صحیح اور درست نہیں ثابت ہو سکتی۔