انوارالعلوم (جلد 5) — Page 55
انوار العلوم جلد ۵ ۵۵ صداقت اسلام کہا جائے۔مذہب کی غرض حکومت نہیں کہ جن لوگوں کے پاس ملک زیادہ ہوں ان کے مذہب کو درست سمجھ لیا جائے۔بلکہ مذہب کی غرض یہ ہے کہ وہ ایک ایسی سڑک تا دے جس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتے ہیں جو مذہب اس غرض کو پورا کرتا ہے وہ پہنچا ہے اور جو نہیں پورا کرتا دہ سچا مذہب نہیں ہے۔کیا اسلام مذہب کی غرض کو پورا کرتا ہے ؟ اب جب کہ ہمیں پتہ لگ گیا کہ مذہب کی غرض یہ ہے۔تو ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اسلام کی صداقت اس سے ثابت ہوتی ہے اور کیا اسلام کوئی الیسا رستہ پیش کرتا ہے جس پر چل کر اللہ تعالی تک پہنچ جائیں ؟ یا ایسی تعلیم دیتا ہے کہ جو دل کو تو بھائی اور اچھی لگتی ہو مگر خدا تعالیٰ نیک نہ پہنچاتی ہو ؟ اگر اسلام کی تعلیم خدا تعالی تک نہیں پہنچاتی تو خواہ اس کی صداقت کی کیسی ہی دلیلیں کیوں نہ دی جائیں ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ہاں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اسلام انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچا دیتا ہے تو ہر ایک عقلمند اور سمجھدار انسان کو ماننا پڑے گا کہ اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور سچا مذہب ہے۔اس اصل کے بعد میں ہر ایک مذہب میں کچھ نہ کچھ خو بیاں پائی جاتی ہیں تمہیدی طور پر ایک اور بات بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ کسی مذہب کے سچا ثابت کرنے سے یہ نہیں ثابت ہو جاتا کہ باقی مذاہب بالکل بیہودہ اور ان کی ساری کی ساری تعلیم لغو ہے۔ہمارے ملک میں بہت بڑا فساد اسی وجہ سے برپا ہوتا ہے کہ ہر مذہب کے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ صرف ہمارا ہی مذہب سچا ہے اور باقی تمام مذاہب سرتا پا جھوٹے ہیں۔لیکن جن لوگوں نے مذاہب کا مطالعہ کیا ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ دنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں جس میں کوئی بھی خوبی نہ ہو۔اگر یہ بات ہے کہ کسی مذہب کی ہر ایک بات جھوٹی اور لغو ہے اور اس میں کوئی بھی خوبی ایسی نہیں ہے جو انسان کے دل کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ اور عقلمند لوگ اس پر چل رہے ہیں۔اصل بات یہی ہے کہ ہر ایک مذہب میں کچھ نہ کچھ خوبیاں پائی جاتی ہیں۔پس کسی مذہب کو سچا ثابت کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ باقی کسی مذہب میں کوئی خوبی نہیں۔بلکہ یہ ہیں کہ وہ کون سا مذہب ہے جس میں سب سے زیادہ خو بیاں پائی جاتی ہیں۔ورنہ یوں تو کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس میں قطعاً کوئی خوبی نہ پائی جاتی ہو۔خواہ کوئی کتنا ہی ابتدائی مذہب ہو