انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 54

انوار العلوم جلد ۵ ۵۴ صداقت اسلام بیان کر دے تاکہ سامعین میں سے ہر ایک کو معلوم ہوسکے کہ لیکچرار کے نزدیک مذہب کی عرض کیا ہے ؟ اور وہ دیکھ سکے کہ مذہب کی جو غرض وہ سمجھا ہوا تھا وہ صحیح نہیں۔یا یہ کہ لیکچرار نے جو بتائی ہے وہ صحیح نہیں اور اس کے لیکچر کی بناء بنائے فاسد علی الفاسد ہوگی۔نہیں آج میں مذہب کی صداقت کے دلائل بیان کرنے سے پہلے یہ بیان کروں گا کہ مذہب کی غرض کیا ہے ؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام جو عربی زبان میں نازل ہوا ہے اس میں مذہب کی غرض معلوم کرنا نہایت آسان ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کو خدا تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی ہے کہ اس کے تمام الفاظ اپنے اندر معانی رکھتے ہیں۔باقی دنیا کی کسی زبان کو خصوصیت حاصل نہیں ہے۔اور زبانوں میں مثلاً اگر دو میں جس کے پیسٹ سے بچہ پیدا ہوتا ہے اسے مال اور جس کے نطفہ سے پیدا ہوتا ہے اسے باپ کہتے ہیں مگر ان الفاظ سے بچہ کے پیدا ہونے کے متعلق کوئی بات ظاہر نہیں ہوتی۔اگر ماں کی بجائے لفظ "پانی" رکھ دیا جاتا تو وہ بھی ایسا ہی ہوتا جیسا کہ یہ ہے۔مگر عربی میں ایسا نہیں ہے۔اس میں جو نام رکھا جاتا ہے وہ خود بتاتا ہے کہ اس کا کیا کام اور اس کی کیا غرض ہے۔عربی میں ماں کو اتم کہتے ہیں اور اسکے معنی جڑھ کے ہیں۔جس طرح شاخیں جڑھ سے پیدا ہوتی ہیں اسی طرح بچہ ماں سے پیدا ہوتا ہے اور گو یا بچہ ماں کی شاخ ہوتا ہے۔اب اگر ماں کی بجائے لاں" یا " شال" رکھ دیا جاتا تو کوئی حرج نہ تھا۔مگر اُم" کے لفظ کی جگہ کوئی اور لفظ رکھنے سے وہ غرض نہ ظاہر ہو سکتی جو اس سے ظاہر ہوتی ہے۔اسی طرح آم کے معنی ہیں وہ چیز جسکے پیچھے پیچھے چلیں اور چونکہ بچہ ماں کے پیچھے چلتا ہے اس لحاظ سے بھی اتم ناں کو کہتے ہیں کہ بچہ ہر دکھ اور ہر تکلیف کے وقت اسی کی طرف راغب ہوتا ہے تو یہ معنی جو لفظ اتم میں پائے جاتے ہیں اور کسی لفظ میں نہیں پاتے جاتے۔یہی حال عربی کے تمام الفاظ کا ہے بیپسی اس زبان میں مذہب کے لئے جو لفظ رکھا گیا ہے اسی میں مذہب کی غرض بھی پائی جاتی ہے۔مذہب کے معنی رستہ، سبیل ، طریق ، منهاج اور شریعت بھی ہیں۔پس عربی زبان کے لحاظ سے وہ قواعد جو انسان کو اخلاقی طور پر نہ جسمانی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیں۔ان کا نام مذہب ہے۔اب رہا یہ کہ وہ قواعد کہاں پہنچاتے ہیں ؟ اس کی نسبت سب مذاہب متفق ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ہستی ہے جس تک پہنچا نا مذاہب کا فرض ہے۔اس کے سوا مذہب کی اور کوئی غرض نہیں۔مذہب کی غرض تجارت کے قواعد بتانا نہیں کہ جس مذہب کے لوگوں میں تجارت زور شور کی ہو ان کا مذہب سچا سمجھ لیا جائے۔مذہب کی عرض دولت نہیں کہ جن لوگوں کے پاس مال زیادہ ہو ان کے مذہب کو سچا