انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 580

انوار العلوم جلد ۵ ۵۸۰ چاہئے ورنہ ان کے وعظ کا اثر زائل ہو جائے گا یا کم ہو جائے گا۔دوسری بات واعظ کے لئے یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ دلیر ہو۔دوسری ہدایت جب تک واعظ دلیر نہ ہو اس کی باتوں کا دوسروں پر اثر نہیں پڑتا اور اس کا دائرہ اثر بہت محدود رہ جاتا ہے کیونکہ وہ انہی لوگوں میں جانے کی جرات کرتا ہے جہاں اس کی باتوں پر واہ واہ ہوتی ہے۔لیکن اگر دلیر ہوتا تو ان میں بھی جاتا جو گالیاں دیتے ، دھکے دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں اور اس طرح اس کا حلقہ بہت وسیع ہوتا۔ہماری جماعت کے مبلغ سوال کرنے سے تو بچے ہوئے ہیں اور ان میں سے بہت میں غناء کی حالت بھی پائی جاتی ہے۔مگر یہ کمزوری ان میں بھی ہے کہ جہاں اپنی جماعت کے لوگ ہوتے ہیں وہاں تو جاتے ہیں اور وعظ کرتے ہیں لیکن جہاں کوئی نہیں ہوتا وہاں نہیں جاتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے دل میں مخفی طور پر واہ واہ سننے کی عادت جاگزیں ہوتی ہے۔وہ دورے کرتے ہیں اور میں میں دفعہ جاتے ہیں مگر اپنی مقامات پر جہاں پہلے جاچکے ہیں اور جہاں احمدی ہوتے ہیں اور جس جگہ کوئی احمدی نہ ہو وہاں اس خیال سے کہ ممکن ہے کوئی گالیاں دے یا مارے نہیں جاتے۔حالانکہ سب سے زیادہ ضرورت انی مقامات پر جانے کی ہوتی ہے جہاں کوئی احمدی نہ ہو۔کیونکہ جہاں بیج ڈال دیا گیا ہے وہاں وہ خود بڑھے گا۔اور جہاں ابھی بیج ہی نہیں پڑا وہاں ڈالنا چاہئے اور خدا تعالیٰ کی بھی یہی سنت معلوم ہوتی ہے کہ کسی ایک جگہ ساری کی ساری جماعت نہیں ہوتی بلکہ متفرق طور پر ہوتی ہے اسی قادیان میں دیکھ لو یہاں کے سارے باشندوں نے تو حضرت مسیح موعود کو نہیں مان لیا۔اشد ترین مخالف بیاں ہی ہیں مگر بٹالہ کے کچھ لوگوں نے آپ کو مان لیا پھر وہاں بھی سب نے نہیں مانا بلکہ اکثر مخالف ہی ہیں۔پھر لاہور میں کچھ لوگوں نے مان لیا۔اسی طرح کچھ نے کلکتہ میں مانا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالٰی نے بیج کی طرح صداقت کو بویا ہوا ہے۔اور اس طرح خدا تعالیٰ صداقت کے مقام اور چھاؤنیاں بناتا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ اردگرد اثر پڑے۔پس یہ خیال بالکل نادرست ہے کہ فلاں جگہ کے سب لوگوں کو احمدی بنا لیں تو پھر آگے جائیں۔اگر ایسا ہونا ضروری ہوتا تو قادیان کے لوگ جب تک سب کے سب نہ مان لیتے ہم آگے نہ جانتے۔لیکن ایسا نہیں ہوا اور نہ ہونا چاہئے تھا۔کیونکہ بعض ایسی طبائع ہوتی ہیں کہ دس میں دن میں مان جاتی ہیں بعض اس سے زیادہ عرصہ میں بعض دو تین سال میں اور بعض دس پندرہ سال میں اور ہر جگہ ایسی طبائع کے لوگ ہوتے ہیں۔اب اگر ان لوگوں کی وجہ سے جنہوں نے لیے عرصہ کے بعد