انوارالعلوم (جلد 5) — Page 40
انوار العلوم جلد ۵ ن احمد بیت وسلم فوت ہو گئے ہیں تو باہر گئے اور لوگوں کو بلا کر کہا سنو وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَائِنْ مَاتَ اَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَا بِكُم (ال عمران (۱۴۵) کہ محمد نہیں تھے مگر اللہ کے رسول آپ سے پہلے رسول فوت ہو گئے۔اگر آپ بھی فوت ہو گئے تو کیا تم ایٹریوں کے بل پھر جاؤ گے۔یہ رسول ہی تو ہیں خُدا نہیں۔اگر خدا ہوتے تو ہمیشہ زندہ رہتے۔پھر انہوں نے کہا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كانَ يَعْبُدُ الله فَإِنَّ اللهَ حَتَّى لا يموت ربخاری کتاب المناقب باب قول النبي صلى الله عليه وسلم لو كنت متخذ ( خلیلاً ) جو محمد کی عبادت کرتا ہے وہ دیکھ لے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عباد کرتا ہے وہ سُن لے کہ اللہ زندہ ہے کبھی نہیں مرتا۔اس طرح انہوں نے بتایا کہ جو یہ کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوتے گویا آپ کو خدا سمجھتا ہے کیونکہ خدا ہی ایک ایسی ہستی ہے جس پر موت نہیں آسکتی۔رسول تو پہلے بھی فوت ہو گئے ہیں اور یہ بھی فوت ہو گئے ہیں۔حضرت عمرضہ کہتے ہیں جب حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ واقع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور یہ بات میرے ذہن میں آنی تھی کہ میں لڑکھڑا کر گر پڑا۔اس وقت پھر حضرت حسان مرتبہ پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں۔كُنتَ السَّوَادَ لِنَا ظِرِى فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ ر دیوان حسان بن ثابت ۱ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۶ء )۔وہ ہمارا تو سب کچھ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہی تھا جب وہ فوت ہوگیا تو ہمیں کیا کوئی مرے یا جئے۔پیس اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اسی صورت میں ثابت ہو سکتی ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ آپ سے پہلے کوئی رسول زندہ نہیں رہا۔ورنہ ایک سچا مومن کس طرح برداشت کر سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین میں مدفون ہوں اور حضرت عیسی اس وقت تک زندہ آسمان پر بیٹھے ہوں۔طبعی عمر کے متعلق تو ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی نبی کو زیادہ دے دے اور کسی کو و کم مگر طبعی طور پر ایک نبی کو زندہ بیٹھا تے رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو چونکہ اس نبی کی زیادہ ضرورت تھی۔اس لئے اس کو زندہ رکھا ہے اور دوسرے کی کوئی ضرورت نہ تھی اس لئے اسے وفات دے دی۔اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان پر اتنا بڑا حملہ ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان اس کو ٹھنڈے دل سے برداشت نہیں کر سکتا۔