انوارالعلوم (جلد 5) — Page 572
انوار العلوم جلد ۵ ۵۷۲ ہدایات زرین کسی کو پہنچا دیتے۔اس کا جو کچھ تیجہ ہوا۔وہ ظاہر ہی ہے۔جب تک جس قوم میں جو کمزوریاں اور نقائص ہوں وہ اسے بتائے نہ جانیں اس وقت تک کوئی مبلغ نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ بلغ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ کے ماتحت ضروری ہے کہ سیودیوں میں جو نقص ہوں وہ ان کو بتائے جائیں، عیسائیوں میں جو نقص ہوں وہ ان کو سنائے جائیں۔غیر احمدیوں میں جو نقص ہوں ان سے انہیں آگاہ کیا جائے اور اپنی جماعت میں جو کمزوریاں ہوں وہ اپنے لوگوں کو بتائی جائیں۔ہاں جو مبلغ بنانے اور تیار کرنے والے ہوں ان کا کام ہے کہ ایک ایک شخص کو یہ سب باتیں بتائیں لیکن جو شخص تبلیغ کرتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ جس قوم میں جائے اس کی کمزوریاں اور نقائص اس تک پہنچائے۔اگر اس کے سامنے کسی دوسری قوم کی کمزوریوں کا ذکر کرے گا تو یہ بلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ کے ماتحت نہ ہو گا۔پس قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو ساری صداقتیں پہنچا دینی اور جو جس کا سختی ہے اس کے پاس وہی پہنچا نا مبلغ کا کام ہے۔اگر کوئی شخص کسی کو پوری پوری صداقت نہیں پہنچاتا تو وہ مبلغ نہیں ہو سکتا اور اگر کسی کے کام آنے والی صداقت کسی اور کو پہنچا دیتا ہے تو بھی مبلغ نہیں ہو سکتا۔کیونکہ یہ پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ پھینکنا ہوتا ہے۔مثلاً اگر میٹھی رساں کسی کا خط کسی کو دے آئے تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ خط پہنچا آیا بلکہ یہی کہیں گے کہ پھینک آیا ہے۔غرض مبلغ کے لفظ نے بتا دیا کہ جس کے کام آنے والی صداقت ہو اسی کو پہنچانا ضروری ہے اور ما أُنزِلَ الیک نے بتا دیا کہ ساری کی ساری پہنچانی چاہئے نہ کہ اس کا کچھ حصہ پہنچا دیا جائے۔اس چھوٹے سے فقرے میں مبلغ کا سارا کام بتا دیا گیا ہے۔تبلیغ کی تقسیم آگے پہنچانا دوطرح کا ہوتا ہے۔ایک اصول کا پہنچانا دوسرے فروع کا پہنچانا یغیر مذاہب کے لوگوں کے لئے تو اصول کی تعلیم پہنچانا ضروری ہے اور جو ماننے والے ہوں ان کے لئے تفصیل کی ضرورت ہوتی ہے کہ فلاں بات کس طرح کرنی چاہئے اور فلاں کس طرح۔اس لحاظ سے تبلیغ کی موٹی تقسیم یہ ہوئی کہ ایک تو ان لوگوں کو تبلیغ کرنا جو اسلام کو نہیں مانتے۔ان کو اصولی باتیں بنانی چاہئیں اور دوسرے ان کو تبلیغ کرنا جو مسلمان تو کہلاتے ہیں مگر اسلام کی باتوں کو جانتے نہیں یا جانتے ہیں