انوارالعلوم (جلد 5) — Page 561
انوار العلوم جلد ۵ ۵۶۱ ملائكة الله انسان وہاں جائے ۔ اس سے پہلے میں بتا چکا ہوں کہ جس انسان پر جبرئیل اور ملائکہ نازل ہوں اس کے پاس بیٹھنے سے فیضان حاصل ہوتا ہے۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس جگہ ملائکہ خاص طور پر نازل ہوں وہاں جانے سے بھی ملائکہ کا خاص نزول ہوتا ہے۔ چنانچہ اس قاعدہ کے ماتحت نمازہ جمعہ میں جانا بہت مفید ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خطبہ شروع ہونے سے پہلے جو لوگ مسجد میں جاتے ہیں ملائکہ ان کے نام لکھتے ہیں اور جب خطبہ شروع ہو جاتا ہے تو پھر نہیں لکھتے۔ (سند احمد بن خلیل جلد ۲ صفحه ۲۳۹) تو نمازہ جمعہ میں باقاعدہ اور بار بار جانے سے ملائکہ سے تعلق اور مؤانست پیدا ہو جاتی ہے اور ان سے فیوض حاصل ہو سکتے ہیں ۔ آٹھواں طریق ملائکہ سے فیض حاصل کرنے کا یہ ہے کہ خلیفہ کے ساتھ تعلق ہو۔ یہ بھی قرآن سے ثابت ہے۔ جیسا کہ آتا ہے ۔ وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلِكَةٍ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيْهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِمَّا تَرَكَ المُوسَى وَال هَرُونَ تَحْمِلُهُ المَلائِكَةُ (البقرة : ۲۴۹) کہ ایک زمانہ میں ایک نبی سے لوگوں نے کہا کہ ہمارے لئے اپنا ایسا جانشین مقرر کر دیجیئے جس سے ہم دنیاوی معاملات میں مدد حاصل کریں۔ لیکن جب ان کے لئے ایک شخص کو جانشین مقرر کیا گیا تو انہوں نے کہہ دیا اس میں وہ کون سی بات ہے جو ہمارے اندر نہیں ہے جیسا کہ اب پیغامی کہتے ہیں ۔ نبی نے کہا ۔ آؤ بتائیں اس میں کون سی بات ہے جو تم میں نہیں اور وہ یہ کہ جو لوگ اس سے تعلق رکھیں گے ان کو فرشتے تسکین دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ خلافت کیساتھ وابستگی بھی ملائکہ سے تعلق پیدا کراتی ہے کیونکہ بتایا گیا ہے کہ ان کے دل فرشتے اُٹھائے ہوئے ہوں گے تابوت کے معنے دل اور سینہ کے ہیں۔ فرمایا خلافت سے تعلق رکھنے والوں کی یہ علامت ہو گی کہ ان کو تی حاصل ہوگی اور پہلے صلحاء اور انبیاء کے علم ان پر ملائکہ نازل کریں گے۔ پس ملائکہ کا نزول فلات وابستگی پر بھی ہوتا ہے ۔ سے ایک سوال کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر رسول کے ساتھ ہر وقت جبرئیل ہوتا ہے تو پھر وہ کوئی غلطی کیوں کرتے ہیں۔ اس کا جواب حضرت صاحب نے دیا ہے کہ جان کر نبی کی آنکھ بعض اوقات بند رکھی جاتی ہے اور اس میں بڑی بڑی حکمتیں ہوتی ہیں۔ یہ وہ ذرائع ہیں۔ جن سے ملائکہ کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے اور بعض ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے تعلق کم بھی ہو جاتا ہے ۔ مثلاً وہ امور جوان امور کے مخالف ہوں جو اوپر بیان کئے گئے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ظاہری طہارت کا بھی فرشتوں کے تعلق سے بڑا تعلق ہے ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا